تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 20

حَتّٰۤی اِذَا مَا جَآءُوۡہَا شَہِدَ عَلَیۡہِمۡ سَمۡعُہُمۡ وَ اَبۡصَارُہُمۡ وَ جُلُوۡدُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۰﴾
یہاں تک کہ جوں ہی اس کے پاس پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضا) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے۔
En
یہاں تک کہ جب بالکل جہنم کے پاس آ جائیں گے اور ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا یعنی جب وہ سب جہنم میں وارد ہوں گے اور اپنی بداعمالیوں کا انکار کرنے کا ارادہ کریں گے۔ ﴿شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاَبْصَارُهُمْ وَجُلُوْدُهُمْ تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ یہ خصوص کے بعد عموم ہے۔ ﴿بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔ یعنی ان کا ہر ہر عضو ان کے خلاف گواہی دے گا۔ ان کا ہر ہر عضو یہ کہے گا میں نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔ پھر ان تین اعضاء کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ اکثر گناہوں کا ارتکاب یہی تین اعضاء کرتے ہیں، یا انھی کے سبب سے اکثر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{حتى إذا ما جاؤوها}؛ أي: حتى إذا وردوا على النار وأرادوا الإنكارَ أو أنكروا ما عملوه من المعاصي، {شَهِدَ عليهم سمعُهم وأبصارُهم وجلودُهم}: عمومٌ بعد خصوص، {بما كانوا يعملونَ}؛ أي: شهد عليهم كلُّ عضو من أعضائهم؛ فكل عضو يقول: أنا فعلتُ كذا وكذا يوم كذا وكذا، وخصَّ هذه الأعضاء الثلاثة؛ لأنَّ أكثر الذُّنوب إنما تقع بها أو بسببها.