تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 21

وَ قَالُوۡا لِجُلُوۡدِہِمۡ لِمَ شَہِدۡتُّمۡ عَلَیۡنَا ؕ قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ خَلَقَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی؟ وہ کہیں گے ہمیں اس اللہ نے بلوا دیا جس نے ہر چیز کو بلوایا اور اسی نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا اور اسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو۔ En
اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضا) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔
En
یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی، وه جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے، اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب یہ اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تو یہ ان اعضاء پر سخت ناراض ہوں گے ﴿وَقَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے: یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہر عضو کی طرف سے گواہی واقع ہو گی جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ﴿لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ حالانکہ ہم تمھارا دفاع کیا کرتے تھے ﴿قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُ٘لَّ شَیْءٍ تووہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوتِ گویائی بخشی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔ لہٰذا گواہی دینے سے انکار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں، اس کی مشیت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ ﴿وَّهُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ اور اس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا جس طرح اس نے تمھاری ذوات و اجسام کو تخلیق فرمایا اسی طرح تمھاری صفات کو بھی تخلیق فرمایا اور گویائی بھی انھی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ ﴿وَّاِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد تخلیق اول کے ذریعے سے مرنے کے بعد زندہ کیے جانے پر استدلال ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم کا طریقہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فإذا شهدتْ عليهم، عاتبوها {وقالوا لجلودِهِم}: هذا دليلٌ على أنَّ الشهادة تقع من كلِّ عضو كما ذكرنا، {لم شهِدتُم علينا}: ونحن ندافعُ عنكنَّ؟ {قالوا أنطَقَنا اللهُ الذي أنطق كلَّ شيءٍ}: فليس في إمكاننا الامتناعُ عن الشهادة حين أنطقنا الذي لا يَستعصي أحد عن مشيئتِهِ ، {وهو خَلَقَكم أولَ مرةٍ}: فكما خلقكم بذواتكم وأجسامِكم؛ خلق أيضاً صفاتِكم، ومن ذلك الإنطاق. {وإليه تُرْجَعون}: في الآخرة، فيجزيكم بما عملتُم. ويُحتمل أنَّ المراد بذلك الاستدلال على البعثِ بالخَلْقِ الأول كما هو طريقة القرآن.