تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دشمنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے جنھوں نے اس کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف جنگ کی، کہ قیامت کے روز ان کا کتنا برا حال ہو گا، جب ان کو اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿اِلَىالنَّارِفَهُمْیُوْزَعُوْنَ ﴾”آگ کی طرف، پس وہ روکے جائیں گے۔“ ان کے پہلے شخص کو آخری شخص کے آنے تک روکے رکھا جائے گا اور آخری شخص پہلے شخص کی پیروی کرے گا، پھر نہایت سختی کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے وہ اپنی مددخود کر سکیں گے نہ ان کی مدد کی جا سکے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن أعدائه الذين بارزوه بالكفر به وبآياتِهِ وتكذيب رسلِهِ ومعاداتهم ومحاربتهم وحالِهِم الشنيعةِ حين يُحشرونَ؛ أي: يجمعون {إلى النار فهم يُوزَعونَ}؛ أي: يردُّ أولهم على آخرهم، ويتبعُ آخرُهم أوَّلهم، ويساقون إليها سوقاً عنيفاً، لا يستطيعون امتناعاً ولا يَنصرون أنفسَهم ولا هم يُنصرون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔