تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 84

فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗ وَ کَفَرۡنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۸۴﴾
پھر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو انھوں نے کہا ہم اس اکیلے اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا انکار کیا جنھیں ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے تھے۔ En
پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نامعتقد ہوئے
En
ہمارا عذاب دیکھتے ہی کہنے لگے کہ اللہ واحد پر ہم ایمان ﻻئے اور جن جن کو ہم اس کا شریک بنا رہے تھے ہم نے ان سب سے انکار کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّا رَاَوْا بَ٘اْسَنَا جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے تو اقرار کرنے لگے۔ تب ان کا اقرار ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکا۔ ﴿قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَؔكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ وہ کہنے لگے: ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس کا انکار کرتے ہیں۔ یعنی جن بتوں اور خودساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا کرتے تھے، اس کا انکار کرتے ہیں اور ہم ہر اس علم و عمل سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں جو رسولوں کا مخالف ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا رأوا بأسَنا}؛ أي: عذابنا؛ أقرُّوا حيث لا ينفعهم الإقرار، و {قالوا آمنَّا بالله وحدَه وكَفَرْنا بما كُنَّا به مشركين}: من الأصنام والأوثان، وتبرَّأنا من كلِّ ما خالف الرسل من علم أو عمل.