ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 84

فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗ وَ کَفَرۡنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۸۴﴾
پھر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو انھوں نے کہا ہم اس اکیلے اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا انکار کیا جنھیں ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے تھے۔ En
پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نامعتقد ہوئے
En
ہمارا عذاب دیکھتے ہی کہنے لگے کہ اللہ واحد پر ہم ایمان ﻻئے اور جن جن کو ہم اس کا شریک بنا رہے تھے ہم نے ان سب سے انکار کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 85،84) {فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ …:} ان دونوں آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۱۸)، انعام (۱۵۸) اور سورۂ یونس (۵۱، ۹۰، ۹۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

84۔ اور جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ [104] لیا تو کہنے لگے: ”ہم اللہ اکیلے پر ایمان لائے اور جنہیں ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ان سے انکار کرتے ہیں“
[104] ایمان کی شرط اول ایمان بالغیب ہے اور عذاب دیکھ لینے یا موت کے وقت تو سب حقیقت مشاہدہ میں آجاتی ہے، غیب رہتی ہی نہیں اور مشاہدہ پر تو سب ہی لوگ یقین رکھتے ہیں خواہ کافر ہوں یا دہریے ہوں یا مشرک ہوں۔ لہٰذا عذاب دیکھنے یا موت کے آثار شروع ہو جانے کے بعد ایمان لانا بے سود ہے۔ بلکہ اس طرح مشاہدے پر لفظ ایمان کا اطلاق بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّا رَاَوْا بَ٘اْسَنَا جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے تو اقرار کرنے لگے۔ تب ان کا اقرار ان کو کوئی فائدہ نہ دے سکا۔ ﴿قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَؔكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ وہ کہنے لگے: ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس کا انکار کرتے ہیں۔ یعنی جن بتوں اور خودساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا کرتے تھے، اس کا انکار کرتے ہیں اور ہم ہر اس علم و عمل سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں جو رسولوں کا مخالف ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا رأوا بأسَنا}؛ أي: عذابنا؛ أقرُّوا حيث لا ينفعهم الإقرار، و {قالوا آمنَّا بالله وحدَه وكَفَرْنا بما كُنَّا به مشركين}: من الأصنام والأوثان، وتبرَّأنا من كلِّ ما خالف الرسل من علم أو عمل.