پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا، جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور اس موقع پر کافر خسارے میں رہے۔
En
لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اس کے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ گئے
لیکن ہمارے عذاب کو دیکھ لینے کے بعد ان کے ایمان نے انہیں نفع نہ دیا۔ اللہ نے اپنا معمول یہی مقرر کر رکھا ہے جو اس کے بندوں میں برابر چلا آ رہا ہے۔ اور اس جگہ کافر خراب وخستہ ہوئے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَلَمْیَكُیَنْفَعُهُمْاِیْمَانُهُمْلَمَّارَاَوْابَ٘اْسَنَا ﴾”جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے انھیں کچھ فائدہ نہ دیا“ یعنی اس حال میں ان کا ایمان انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا جب وہ ہمارا عذاب دیکھ لیں گے ﴿سُنَّتَاللّٰهِ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور عادت ہے ﴿الَّتِیْقَدْخَلَتْفِیْعِبَادِهٖ﴾”جو اس کے بندوں میں چلی آتی ہے۔“ یعنی ان جھٹلانے والوں کے بارے میں، جو اس وقت ایمان لاتے ہیں جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان کا ایمان صحیح ہے نہ ان کو عذاب سے نجات دلا سکتا ہے۔ یہ اضطراری اور مشاہدے کا ایمان ہے۔
وہ ایمان جو صاحبِ ایمان کو نجات دیتا ہے، اختیاری ایمان ہے، جو قرائن عذاب کے وجود سے پہلے پہلے، ایمان بالغیب ہے۔ ﴿وَخَسِرَهُنَالِكَ ﴾”اور خسارے میں پڑ جاتے ہیں ایسے وقت میں“ جب ہم ہلاکت اور عذاب کا مزا چکھاتے ہیں ﴿الْ٘كٰفِرُوْنَ ﴾”کافر لوگ“ اپنے دین، دنیا اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ آخرت کے گھر میں مجرد خسارہ ہی نہیں ہو گا بلکہ ایک ایسا خسارہ ہو گا کہ وہ نہایت شدید دائمی اور ابدی عذاب کے اندر، بدبختی میں گھرا ہوا ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلم يكُ ينفعُهم إيمانُهم لما رأوا بأسَنا}؛ أي: في تلك الحال، وهذه {سنة الله} وعادتُه {التي خَلَتْ في عبادِهِ}: أنَّ المكذِّبين حين ينزل بهم بأسُ الله وعقابُه إذا آمنوا؛ كان إيمانُهم غيرَ صحيح ولا منجياً لهم من العذاب، وذلك لأنَّه إيمانُ ضرورةٍ؛ قد اضطرُّوا إليه، وإيمانُ مشاهدة، وإنَّما الإيمان [النافع] الذي ينجي صاحبه هو الإيمان الاختياريُّ الذي يكون إيماناً بالغيب، وذلك قبل وجودِ قرائن العذاب، {وخَسِرَ هنالك}؛ أي: وقت الإهلاك وإذاقة البأس {الكافرون}: دينَهم ودُنياهم وأخراهم، ولا يكفي مجرَّد الخسارة في تلك الدار، بل لا بدَّ من خسران يشقي في العذاب الشديد والخلود فيه دائماً أبداً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔