تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 78

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَیۡکَ ؕ وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ قُضِیَ بِالۡحَقِّ وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿٪۷۸﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے کئی رسول بھیجے، ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا حال ہم نے تجھے سنایا اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا حال ہم نے تجھے نہیں سنایا۔ اور کسی رسول کا اختیار نہ تھا کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی لے آئے، پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا اور اس موقع پر اہل باطل خسارے میں رہے۔ En
اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کئے۔ اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ خدا کے حکم کے سوا کوئی نشانی لائے۔ پھر جب خدا کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑ گئے
En
یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کیے اور کسی رسول کا یہ (مقدور) نہ تھا کہ کوئی معجزه اللہ کی اجازت کے بغیر ﻻ سکے پھر جس وقت اللہ کا حکم آئےگا حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس جگہ اہل باطل خسارے میں ره جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی آپ سے پہلے بھی ہم نے بہت سے رسول ان کی قوموں کی طرف مبعوث فرمائے جو انھیں توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر کرتے تھے۔ ﴿مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ جن میں سے کچھ کے بارے میں ہم نے آپ کو خبر دی ہے۔ ﴿وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَ٘قْ٘صُصْ عَلَیْكَ اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات ہم نے آپ پر بیان نہیں کیے۔ تمام انبیاء اور رسول اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہیں ان کے اپنے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ تمام رسولوں میں سے کسی کے اختیار میں نہیں ﴿اَنْ یَّ٘اْتِیَ بِاٰیَةٍ یہ کہ وہ کوئی نشانی، معجزہ لائے۔ یعنی ان رسولوں کے اختیار میں نہیں کہ وہ سمعی یا عقلی نشانی لاسکیں۔ ﴿اِلَّا بِـاِذْنِ اللّٰهِ مگر اس کی مشیت اور اس کے حکم سے۔ اس لیے رسولوں سے معجزات دکھانے کا مطالبہ کرنا، ظلم تعنت اور تکذیب ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات کے ذریعے سے ان کی تائید کی ہے جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی ہیں۔
﴿فَاِذَا جَآءَؔ اَمْرُ اللّٰهِ پس جب اللہ تعالیٰ کا حکم رسولوں اور ان کے دشمنوں کے مابین فیصلہ کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح آجاتی ہے ﴿قُ٘ضِیَ بِالْحَقِّ تو ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے جو صحیح موقع پر واقع ہوتا ہے، انبیاء و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور مکذبین کی ہلاکت کے ذریعے سے صواب کی تائید کرتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَخَسِرَ هُنَالِكَ اور وہیں نقصان میں پڑ گئے۔ یعنی مذکورہ فیصلے کے وقت ﴿الْ٘مُبْطِلُوْنَ غلط کار لوگ یعنی وہ لوگ جن کا وصف باطل ہے، وہ جو بھی علم و عمل پیش کرتے ہیں سب باطل ہے، ان کی غرض و غایت اور مقاصد، سب باطل پر مبنی ہیں۔ اس لیے ان مخاطبین کو اپنے باطل نظریات پر جمے رہنے سے ڈرنا چاہیے ورنہ یہ لوگ بھی خسارے میں پڑجائیں گے جیسے وہ لوگ خسارے میں پڑے تھے۔ نہ ان حضرات میں کوئی بھلائی ہے اور نہ ان کے لیے کتابوں میں نجات لکھی گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {ولقد أرسَلْنا من قبلِكَ رسلاً}: كثيرين إلى قومهم يَدْعونَهم ويصبرونَ على أذاهم. {منهم مَن قَصَصْنا عليك}: خبرهم، {ومنهم مَن لم نَقْصُصْ عليك}: وكل الرسل مدبَّرُون ليس بيدهم شيء من الأمر. {وما كان} لأحدٍ {منهم أن يأتي بآيةٍ}: من الآيات السمعيَّة والعقليَّة {إلاَّ بإذن الله}؛ أي: بمشيئته وأمره؛ فاقتراح المقترح على الرسل الإتيان بالآيات ظلمٌ منهم وتعنُّتٌ وتكذيبٌ بعد أن أيَّدهم الله بالآيات الدالَّة على صدقهم وصحَّة ما جاؤوا به. {فإذا جاء أمر الله}: بالفصل بين الرسل وأعدائِهِم والفتح، {قُضِيَ}: بينهم {بالحقِّ}: الذي يقع الموقع ويوافق الصواب بإنجاء الرسل وأتباعهم وإهلاك المكذِّبين، ولهذا قال: {وخسر هنالك}؛ أي: وقت القضاء المذكور {المبطلونَ}: الذين وصفُهم الباطلُ وما جاؤوا به من العلم والعمل باطلٌ، وغايتهم المقصودة لهم باطلةٌ، فليحذر هؤلاء المخاطبون أن يستمروا على باطلهم، فيخسروا كما خسر أولئك؛ فإنَّ هؤلاء لا خير منهم ولا لهم براءة في الكتب بالنجاة.