تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جن انبیاء کا بیان نہیں ہوا وہ تعداد میں ان پیغمبروں سے بہت ہی زیادہ ہیں جن کا قرآن میں ذکر ہوا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۱۶۴) کی تفسیر۔
➌ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”کسی قوم کے قدیم رہنما کے متعلق (جو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہو گزرے ہیں) قطعی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں کہ وہ نبی نہ تھا، ممکن ہے کہ وہ نبی ہو اور اس نے توحید ہی کی دعوت پیش کی ہو، مگر بعد کے لوگوں نے اس کی تعلیمات کو مسخ کر دیا ہو۔“ (اشرف الحواشی) ایسی کسی شخصیت کو یقین سے نبی بھی نہیں کہا جا سکتا۔
➍ { وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ:} مطلب یہ ہے کہ معجزہ کوئی کھیل نہیں کہ کافروں نے جب چاہا نبی سے اس کا مطالبہ کر دیا اور نبی نے جب چاہا اسے دکھا دیا، کسی رسول کے پاس اللہ کے اذن کے بغیر کوئی معجزہ بھی لانے کا اختیار نہیں۔ اس میں ان لوگوں کا واضح رد ہے جو انبیاء تو ایک طرف اولیاء کے متعلق بھی یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ وہ کمان سے نکلے ہوئے تیر کو بھی واپس لانے کی قدرت رکھتے ہیں اورجو چاہیں کر سکتے ہیں۔
➎ { فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ:} یعنی مطالبے پر جو معجزہ پیش کیا جاتا ہے اس کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے دو ٹوک فیصلے کی ہوتی ہے، اگر کوئی قوم اس کے بعد بھی ایمان نہ لائے تو اس کی ہلاکت یقینی ہوتی ہے۔
➏ { وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ: ” هُنَالِكَ “} زمان و مکان دونوں کے لیے آتا ہے، ”اس جگہ“، ”اس وقت“ اور ”اس موقع پر“ کے الفاظ میں دونوں معانی آ جاتے ہیں۔ یعنی عذاب کی آمد کے موقع پر ایمان والے نجات پا جاتے ہیں اور باطل والے خسارے میں رہ جاتے ہیں اور ان کا نام و نشان مٹا دیا جاتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[100] ’اللہ کے حکم‘ سے یہاں مراد اللہ کے عذاب کا حکم ہے اور اس کا اطلاق کسی قوم پر دنیا میں عذاب کے دن پر بھی ہو سکتا ہے اور آخرت کے دن پر بھی۔ جو بھی صورت ہو اللہ تعالیٰ رسولوں اور ان کے مخالفوں کے درمیان منصفانہ فیصلہ کر دیتا ہے اس وقت رسول سرخرو اور کامیاب ہوتے ہیں اور باطل پرستوں کے حصہ میں ذلت و خسران کے سوا کچھ نہیں آتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر مزید تسلی کے طور پر فرما رہا ہے کہ تجھ سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تیرے سامنے بیان کر دیئے ہیں۔ اور بعض کے قصے ہم نے بیان بھی نہیں کئے جیسے سورۃ نساء میں بھی فرمایا گیا ہے۔ پس جن کے قصے مذکور ہیں دیکھ لو کہ قوم سے ان کی کیسی کچھ نمٹی۔ اور بعض کے واقعات ہم نے بیان نہیں کئے وہ بہ نسبت ان کے بہت زیادہ ہیں۔ جیسے کہ ہم نے سورۃ نساء کی تفسیر کے موقعہ پر بیان کر دیا ہے۔ واللہ الحمد و المنہ
۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {ولقد أرسَلْنا من قبلِكَ رسلاً}: كثيرين إلى قومهم يَدْعونَهم ويصبرونَ على أذاهم. {منهم مَن قَصَصْنا عليك}: خبرهم، {ومنهم مَن لم نَقْصُصْ عليك}: وكل الرسل مدبَّرُون ليس بيدهم شيء من الأمر. {وما كان} لأحدٍ {منهم أن يأتي بآيةٍ}: من الآيات السمعيَّة والعقليَّة {إلاَّ بإذن الله}؛ أي: بمشيئته وأمره؛ فاقتراح المقترح على الرسل الإتيان بالآيات ظلمٌ منهم وتعنُّتٌ وتكذيبٌ بعد أن أيَّدهم الله بالآيات الدالَّة على صدقهم وصحَّة ما جاؤوا به. {فإذا جاء أمر الله}: بالفصل بين الرسل وأعدائِهِم والفتح، {قُضِيَ}: بينهم {بالحقِّ}: الذي يقع الموقع ويوافق الصواب بإنجاء الرسل وأتباعهم وإهلاك المكذِّبين، ولهذا قال: {وخسر هنالك}؛ أي: وقت القضاء المذكور {المبطلونَ}: الذين وصفُهم الباطلُ وما جاؤوا به من العلم والعمل باطلٌ، وغايتهم المقصودة لهم باطلةٌ، فليحذر هؤلاء المخاطبون أن يستمروا على باطلهم، فيخسروا كما خسر أولئك؛ فإنَّ هؤلاء لا خير منهم ولا لهم براءة في الكتب بالنجاة.