تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 77

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۷۷﴾
پس صبر کر، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے، پھر اگر کبھی ہم واقعی تجھے اس کا کچھ حصہ دکھادیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا تجھے اٹھا ہی لیں تو یہ لوگ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔ En
تو (اے پیغمبر) صبر کرو خدا کا وعدہ سچا ہے۔ اگر ہم تم کو کچھ اس میں سے دکھادیں جس کا ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں۔ (یعنی کافروں پر عذاب نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
En
پس آپ صبر کریں اللہ کا وعده قطعاً سچا ہے، انہیں ہم نے جو وعدے دے رکھے ہیں ان میں سے کچھ ہم آپ کو دکھائیں یا (اس سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں، ان کا لوٹایا جانا تو ہماری ہی طرف ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاصْبِرْ اے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینے پر اپنی قوم کی طرف سے جو تکالیف پہنچتی ہیں اس پر صبر کیجیے اور اپنے صبر پر اپنے ایمان سے مدد لیجیے: ﴿اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ وہ اپنے دین کی مدد اور اپنے کلمے کو غالب کرے گا اور اپنے رسولوں کو دنیا و آخرت میں اپنی نصرت سے نوازے گا۔ نیز دنیا و آخرت میں اپنے دشمنوں پر عذاب کے وقوع سے بھی صبر میں مدد لیجیے! اس لیے فرمایا: ﴿فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ یعنی اگر ہم نے دنیا ہی میں ان کے عذاب کا کچھ حصہ آپ کو دکھا دیا جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں۔ ﴿اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ۠ یا ان کو سزا دینے سے پہلے آپ کو اپنے پاس بلا لیا۔ ﴿فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ پس ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو پھر ہم ان کو ان کے کرتوتوں کی سزا دیں گے۔ ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ (ابراہیم: 14؍42) ظالم جو کچھ کرتے ہیں اللہ کو اس سے غافل نہ سمجھیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {فاصبِرْ}: يا أيها الرسولُ على دعوة قومِك وما ينالُك منهم من أذىً، واستَعِنْ على صبرك بإيمانك. {إنَّ وعد الله حقٌّ}: سينصر دينَه ويُعلي كلمتَه وينصرُ رسلَه في الدُّنيا والآخرة، واستعِنْ على ذلك أيضاً بتوقُّع العقوبة بأعدائك في الدُّنيا والآخرة، ولهذا قال: {فإمَّا نُرِيَنَّكَ بعضَ الذي نَعِدُهم}: في الدُّنيا؛ فذاك، {أو نتوفَّيَنَّك}: قبل عقوبتهم، {فإلينا يُرجَعون}: فنجازيهم بأعمالهم؛ فلا تحسبنَّ اللهَ غافلاً عما يعملُ الظالمون.