تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اُدْخُلُوْۤااَبْوَابَجَهَنَّمَ ﴾”جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ“ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے میں داخل کر دیا جائے گا۔ ﴿خٰؔلِدِیْنَفِیْهَا ﴾”اس میں تم ہمیشہ رہو گے“ کبھی بھی وہاں سے نہ نکلیں گے۔ ﴿فَبِئْسَمَثْوَىالْمُتَكَبِّرِیْنَ ﴾ وہ ایسا ٹھکانا ہوگا جہاں ان کو محبوس کر کے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور عذاب دیا جائے گا اور جہاں کبھی انھیں سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں داخل کیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ادْخُلوا أبوابَ جهنَّمَ}: كلٌّ بطبقةٍ من طبقاتها على قدرِ عمله {خالدين فيها}: لا يخرجون منها أبداً. {فبئس مثوى المتكبِّرينَ}: مثوىً يُخْزَوْن فيه ويهانون ويُحبسون ويُعذَّبون، ويتردَّدون بين حرِّها وزمهريرها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔