تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 7

اَلَّذِیۡنَ یَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَ مَنۡ حَوۡلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعۡتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحۡمَۃً وَّ عِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَ قِہِمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿۷﴾
وہ(فرشتے) جو عرش کواٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اورا ن لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو ایمان لائے، اے ہمارے رب! تو نے ہر چیز کو رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے، تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا۔ En
جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور مومنوں کے لئے بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے رستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچالے
En
عرش کے اٹھانے والے اور اسکے آس پاس کے (فرشتے) اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استفغار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راه کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے کامل لطف و کرم اور ان اسباب کا ذکر کرتا ہے جو اس نے ان کی سعادت کے لیے مقرر فرمائے ہیں، یہ اسباب ان کی قدرت سے باہر تھے، مثلاً: ان کے لیے ملائکہ مقربین کا استغفار کرنا اور ان کے دین و آخرت کی بھلائی کے لیے دعا کرنا۔ اس ضمن میں عرش الٰہی اٹھانے والے فرشتے اور جو اس کے اردگرد ہیں ان کے شرف کی خبر ہے۔ اور اسی طرح اپنے رب کے قریب رہنے والے فرشتوں، ان کی عبادت کی کثرت، اللہ کے بندوں کے لیے ان کی خیرخواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْ٘عَرْشَ جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ یعنی رحمٰن کا عرش، جو تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ جو تمام مخلوقات میں سب سے بڑا، سب سے وسیع، سب سے خوبصورت اور اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے، جو زمین و آسمان اور کرسی پر چھایا ہوا ہے۔
ان فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عرش اٹھانے پر مقرر کیا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب سے بڑے اور سب سے طاقتور فرشتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ان فرشتوں کو اپنا عرش اٹھانے کے لیے چن لینا، ذکر میں ان کو مقدم رکھنا اور ان کو اپنے قرب سے سرفراز کرنا دلالت کرتا ہے کہ یہ سب سے افضل فرشتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِیَةٌ (الحاقۃ: 69؍17) اور اس روز تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔
﴿وَمَنْ حَوْلَهٗ اور جو اس کے اردگرد ہیں یعنی قدرومنزلت اور فضیلت میں اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ﴿یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں۔ یہ ان فرشتوں کی، ان کی کثرت عبادت خاص طور پر تسبیح و تحمید کی بنا پر مدح ہے۔ تسبیح و تحمید میں تمام عبادات داخل ہیں کیونکہ تمام عبادات کے ذریعے سے اس طرح اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کی جاتی ہے کہ بندہ اپنی عبادات کو غیراللہ سے ہٹا کر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرتا ہے۔ نیز یہ عبادات اللہ تعالیٰ کی حمد ہیں بلکہ حمد ہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ رہا بندے کا قول (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ) تو یہ بھی اسی میں داخل ہے اور جملہ عبادات میں شامل ہے۔
﴿وَیَسْتَغْفِرُوْنَ۠ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور وہ مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایمان کے جملہ فوائد اور اس کے فضائل میں سے ہے کہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور گناہوں سے پاک ہیں، اہل ایمان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، لہٰذا پس بندۂ مومن اپنے ایمان کے سبب سے اس عظیم فضیلت کو حاصل کرتا ہے۔
چونکہ مغفرت کے لیے کچھ اسباب ہیں جن کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی اور یہ اسباب اس خیال سے بالکل مختلف ہیں جو بہت سے اذہان میں آتا ہے کہ مغفرت طلب کرنے کی غرض و غایت مجرد گناہوں کی بخشش ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے فرشتوں کی دعائے مغفرت اور ان امور کا ذکر فرمایا جن کے بغیر دعائے مغفرت کی تکمیل نہیں ہوتی، چنانچہ فرمایا: ﴿رَبَّنَا وَسِعْتَ كُ٘لَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا اے ہمارے رب! تیری رحمت اور علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیرے علم نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، تجھ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ زمین میں کوئی ذرہ بھر چیز تیرے علم سے اوجھل ہے نہ آسمان میں اور کوئی چھوٹی چیز تجھ سے چھپی ہوئی ہے نہ کوئی بڑی چیز۔ تیری رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ علوی اور سفلی تمام کائنات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے لبریز اور اس کی رحمت تمام کائنات پر چھائی ہوئی ہے۔ اس کی تمام مخلوق اس رحمت سے بہرہ مند ہوتی ہے۔ ﴿فَاغْ٘فِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا پس جن لوگوں نے توبہ کی انھیں بخش دے۔ یعنی جنھوں نے شرک اور معاصی سے توبہ کی ﴿وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ اور جو تیرے راستے پر گامزن ہوئے تیرے رسولوں کی اتباع، تیری توحید اور تیری اطاعت کے ذریعے سے ﴿وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے یعنی (اے اللہ!) ان کو عذاب سے اور اس کے اسباب سے بچا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبرُ تعالى عن كمال لطفِهِ تعالى بعباده المؤمنين، وما قيَّض لأسباب سعادتِهِم من الأسباب الخارجة عن قُدَرِهم من استغفار الملائكةِ المقرَّبين لهم ودعائِهِم لهم بما فيه صلاحُ دينِهم وآخرتِهِم، وفي ضمن ذلك الإخبار عن شرف حملة العرشِ ومَنْ حولَه وقُرْبِهِم من ربِّهم وكثرة عبادتهم ونُصحهم لعبادِ الله لعلمهم أنَّ الله يحبُّ ذلك منهم، فقال: {الذين يحملونَ العرشَ}؛ أي: عرش الرحمن، الذي هو سقف المخلوقات وأعظمها وأوسعها وأحسنها وأقربها من الله تعالى، الذي وسع الأرض والسماوات والكرسيَّ، وهؤلاء الملائكة قد وَكَلَهُمُ الله تعالى بحمل عرشه العظيم؛ فلا شكَّ أنهم من أكبر الملائكة وأعظمهم وأقواهم، واختيار الله لهم لحمل عرشه وتقديمهم في الذكر وقربهم منه يدلُّ على أنهم أفضل أجناس الملائكة عليهم السلام؛ قال تعالى: {ويحملُ عرشَ ربِّك فوقَهم يومئذٍ ثمانيةٌ}، {ومَنْ حولَه}: من الملائكة المقرَّبين في المنزلة والفضيلة، {يسبِّحون بحمد ربِّهم}: هذا مدح لهم بكثرة عبادتهم لله تعالى، وخصوصاً التسبيح والتحميد، وسائر العبادات تدخل في تسبيح الله وتحميده؛ لأنها تنزيهٌ له عن كون العبد يصرفها لغيره وحمدٌ له تعالى، بل الحمدُ هو العبادة لله تعالى، وأما قول العبد: «سبحان الله وبحمده»؛ فهو داخلٌ في ذلك، وهو من جملة العبادات، {ويستغفرون للذين آمنوا}: وهذا من جملة فوائد الإيمان وفضائله الكثيرة جدًّا؛ أن الملائكة الذين لا ذنوب عليهم يستغفرون لأهل الإيمان؛ فالمؤمن بإيمانه تسبَّب لهذا الفضل العظيم.

ولمَّا كانت المغفرةُ لها لوازمُ لا تتمُّ إلا بها ـ غير ما يتبادر إلى كثير من الأذهان أنَّ سؤالَها وطلبَها غايتُهُ مجرّد مغفرة الذنوب ـ ذكر تعالى صفةَ دعائهم لهم بالمغفرة بذكر ما لا تتمُّ إلاَّ به، فقال: {ربَّنا وسعتَ كل شيء رحمة وعلماً}: فعلمك قد أحاط بكلِّ شيء، لا يخفى عليك خافيةٌ ولا يعزُبُ عن علمك مثقال ذرةٍ في الأرض ولا في السماء ولا أصغر من ذلك ولا أكبر، ورحمتُك وسعتْ كلَّ شيء؛ فالكون علويُّه وسفليُّه قد امتلأ برحمة الله تعالى، ووسعتهم، ووصل إلى ما وصل إليه خلقه، {فاغْفِرْ للذين تابوا}: من الشرك والمعاصي، {واتَّبعوا سبيلك}: باتِّباع رسلك بتوحيدك وطاعتك، {وقِهِمْ عذابَ الجحيم}؛ أي: قهم العذاب نفسه، وقِهِم أسباب العذاب.