تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہ بات تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ عرش اٹھانے والے اور دوسرے تمام فرشتے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، پھر ان کے اللہ پر ایمان لانے کا ذکر خاص طور پر کیوں فرمایا؟ زمخشری نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ ایمان کی فضیلت و شرف کو نمایاں کرنے کے لیے اور اس کی ترغیب دینے کے لیے کیا گیا ہے، جیسا کہ سورۂ بلد میں مشکل گھاٹی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے گردن چھڑانے اور نیکی کے دوسرے اعمال کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے کا ذکر فرمایا، تاکہ ایمان کی فضیلت ثابت ہو اور واضح ہو جائے کہ کوئی بھی نیکی اسی وقت معتبر ہے جب اس کے ساتھ ایمان ہو۔
➌ عرش اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں سے سب سے بڑی مخلوق ہے، کیونکہ وہ تمام زمینوں اور آسمانوں کے اوپر ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، پھر عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کی عظمت کا کیا حال ہو گا!؟ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أُذِنَ لِيْ أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَّلَكٍ مِنْ مَّلاَئِكَةِ اللّٰهِ تَعَالٰی مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلٰی عَاتِقِهِ مَسِيْرَةُ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ] [أبوداوٗد، السنۃ، باب في الجہمیۃ: ۴۷۲۷، و قال الألباني صحیح] ”مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے ان فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے متعلق بیان کروں جو عرش اٹھائے ہوئے ہیں کہ اس کے کان کی کونپل سے اس کے کندھے تک سات سو سال کا فاصلہ ہے۔“ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ سال دنیا والے ہیں یا وہ سال ہیں جن کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے، یا اس سے بھی طویل مدت والے سال مراد ہیں، کیونکہ ہمارے سورج کے دائرے کے باہر وقت کا حساب ہمارے حساب سے نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ افلاک کی وسعت کا کچھ اندازہ نہیں، جہاں سورج بھی ایک ذرے کی حیثیت رکھتا ہے۔ غرض یہ ان فرشتوں کی عظمت کا محض ایک اندازہ ہے۔ عرش کو اٹھانے والے اتنے عظیم فرشتے اور عرش کے ارد گرد موجود اور اس کا طواف کرنے والے فرشتے جب مومنوں کے حق میں استغفار اور دعائیں کر رہے ہیں، اور ظاہر ہے کہ وہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کر رہے ہیں، جیسا کہ تمام فرشتوں کے متعلق فرمایا: «بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ (26) لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ» [الأنبیاء: ۲۶، ۲۷] ”بلکہ وہ بندے ہیں جنھیں عزت دی گئی ہے۔ وہ بات کرنے میں اس سے پہل نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم کے ساتھ ہی عمل کرتے ہیں۔“ تو اس سے ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ کی بے حد و حساب مہربانی اور رحمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ حاقہ (۱۷)۔
➍ اس آیت میں توبہ کرنے والوں کے لیے صرف عرش اٹھانے والے اور اس کے ارد گرد موجود فرشتوں کے استغفار اور دعا کا ذکر ہے، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمام فرشتے ان کے لیے استغفار کرتے ہیں، فرمایا: «تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَ۠ لِمَنْ فِي الْاَرْضِ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» [الشورٰی: ۵] ”آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں، سن لو! بے شک اللہ ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“
➎ { رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا:} یہاں{” يَقُوْلُوْنَ“} (وہ فرشتے کہتے ہیں) محذوف ہے۔ یعنی تسبیح و تحمید کی طرح ایمان والوں کے لیے دعا کرنا بھی ان کے معمولات میں شامل ہے۔ اس سے ایمان کی فضیلت اور ایمان والوں کے باہمی تعلق اور محبت کا اندازہ ہوتا ہے کہ عرش کے پاس رہنے والے فرشتے زمین پر رہنے والے مومنوں کے حق میں دعائیں کرتے ہیں۔ اسی طرح اس سے دعا کا سلیقہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو {” رَبَّنَا “} (اے ہمارے رب! اے ہمارے پالنے والے!) کہہ کر پکارتے ہیں، پھر اس سے اس کی رحمت اور اس کے علم کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہیں، یعنی تیری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے (دیکھیے اعراف: ۱۵۶) اور تیرا علم بھی ہر چیز پر وسیع ہے۔ (دیکھیے انعام: ۸۰۔ طلاق: ۱۲)
➏ { فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا …:} اس لیے تو اپنی رحمت اور علم کے تقاضے کے مطابق ان گناہ گاروں کو بخش دے جو اپنے گناہوں سے توبہ کریں، ان سے باز آ جائیں اور تیرے راستے کی پیروی کریں، تو نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کریں اور جس سے منع کیا ہے اسے چھوڑ دیں اور اے اللہ! انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا لے۔ مزید دیکھیے سورۂ شوریٰ کی آیت (۵) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[7] ان کا اللہ پر ایمان اس لحاظ سے مضبوط ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قریب رہتے ہیں۔ ان عرشیوں کی سب ہمدردیاں زمین والے مومنوں کے ساتھ ہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایمان کا رشتہ نہ صرف یہ کہ جغرافیائی حدود کا پابند نہیں بلکہ عرشیوں اور فرشیوں سب کو ایک رشتہ میں منسلک کر دیتا ہے۔
[8] یعنی تیرا علم اتنا وسیع ہے کہ تو اپنے بندوں کے سارے حالات ان کے گناہوں اور ان کے دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات تک سے واقف ہے تو تیری رحمت اس سے بڑھ کر وسیع ہے۔ لہٰذا جو لوگ توبہ کر چکے اور تیری راہ پر گامزن ہو چکے ہیں تو ان کے گناہ معاف کر کے انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے «زحل و ثور تحت وجل یمینہ» و «النسر للاخری و لیث مرصد» یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا و «الشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد» یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہو جاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچ ہے۔[مسند احمد:256/1:ضعیف]
اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔
ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ سیدنا شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى حِلْمِكَ بَعْدَ عِلْمِكَ» یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔ اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے «سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَكَ الْحَمْدُ على عَفْوك بَعْدَ قُدْرَتِکَ» یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہرچیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔
جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے، «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» [52- الطور: 21]، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کر دیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کر دیں گے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مومن جنت میں جا کر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لیے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت «رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» [40- غافر: 8] کی تلاوت فرمائی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبرُ تعالى عن كمال لطفِهِ تعالى بعباده المؤمنين، وما قيَّض لأسباب سعادتِهِم من الأسباب الخارجة عن قُدَرِهم من استغفار الملائكةِ المقرَّبين لهم ودعائِهِم لهم بما فيه صلاحُ دينِهم وآخرتِهِم، وفي ضمن ذلك الإخبار عن شرف حملة العرشِ ومَنْ حولَه وقُرْبِهِم من ربِّهم وكثرة عبادتهم ونُصحهم لعبادِ الله لعلمهم أنَّ الله يحبُّ ذلك منهم، فقال: {الذين يحملونَ العرشَ}؛ أي: عرش الرحمن، الذي هو سقف المخلوقات وأعظمها وأوسعها وأحسنها وأقربها من الله تعالى، الذي وسع الأرض والسماوات والكرسيَّ، وهؤلاء الملائكة قد وَكَلَهُمُ الله تعالى بحمل عرشه العظيم؛ فلا شكَّ أنهم من أكبر الملائكة وأعظمهم وأقواهم، واختيار الله لهم لحمل عرشه وتقديمهم في الذكر وقربهم منه يدلُّ على أنهم أفضل أجناس الملائكة عليهم السلام؛ قال تعالى: {ويحملُ عرشَ ربِّك فوقَهم يومئذٍ ثمانيةٌ}، {ومَنْ حولَه}: من الملائكة المقرَّبين في المنزلة والفضيلة، {يسبِّحون بحمد ربِّهم}: هذا مدح لهم بكثرة عبادتهم لله تعالى، وخصوصاً التسبيح والتحميد، وسائر العبادات تدخل في تسبيح الله وتحميده؛ لأنها تنزيهٌ له عن كون العبد يصرفها لغيره وحمدٌ له تعالى، بل الحمدُ هو العبادة لله تعالى، وأما قول العبد: «سبحان الله وبحمده»؛ فهو داخلٌ في ذلك، وهو من جملة العبادات، {ويستغفرون للذين آمنوا}: وهذا من جملة فوائد الإيمان وفضائله الكثيرة جدًّا؛ أن الملائكة الذين لا ذنوب عليهم يستغفرون لأهل الإيمان؛ فالمؤمن بإيمانه تسبَّب لهذا الفضل العظيم.
ولمَّا كانت المغفرةُ لها لوازمُ لا تتمُّ إلا بها ـ غير ما يتبادر إلى كثير من الأذهان أنَّ سؤالَها وطلبَها غايتُهُ مجرّد مغفرة الذنوب ـ ذكر تعالى صفةَ دعائهم لهم بالمغفرة بذكر ما لا تتمُّ إلاَّ به، فقال: {ربَّنا وسعتَ كل شيء رحمة وعلماً}: فعلمك قد أحاط بكلِّ شيء، لا يخفى عليك خافيةٌ ولا يعزُبُ عن علمك مثقال ذرةٍ في الأرض ولا في السماء ولا أصغر من ذلك ولا أكبر، ورحمتُك وسعتْ كلَّ شيء؛ فالكون علويُّه وسفليُّه قد امتلأ برحمة الله تعالى، ووسعتهم، ووصل إلى ما وصل إليه خلقه، {فاغْفِرْ للذين تابوا}: من الشرك والمعاصي، {واتَّبعوا سبيلك}: باتِّباع رسلك بتوحيدك وطاعتك، {وقِهِمْ عذابَ الجحيم}؛ أي: قهم العذاب نفسه، وقِهِم أسباب العذاب.