تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 8

رَبَّنَا وَ اَدۡخِلۡہُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِۣ الَّتِیۡ وَعَدۡتَّہُمۡ وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ۙ﴿۸﴾
اے ہمارے رب! اور انھیں ہمیشہ رہائش والی ان جنتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کو بھی جو ان کے باپ دادوںاور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے لائق ہیں۔ بلاشبہ تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے ۔ En
اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
En
اے ہمارے رب! تو انہیں ہمیشگی والی جنتوں میں لے جا جن کا تو نے ان سے وعده کیا ہے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اوﻻد میں سے (بھی) ان (سب) کو جو نیک عمل ہیں۔ یقیناً تو تو غالب و باحکمت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟ الَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ اے ہمارے رب! ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل فرما جن کا تونے ان سے وعدہ فرمایا یعنی جن کا تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر وعدہ کیا۔ ﴿وَمَنْ صَلَ٘حَ اور جو صالح ہوں یعنی جو ایمان اور عمل صالح کے ذریعے سے درست ہوں۔ ﴿مِنْ اٰبَآىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ ان کے آباء واجداد اور ان کی بیویوں میں سے یعنی ان کی بیویوں، عورتوں کے شوہروں، ان کے دوستوں اور رفقاء میں سے ﴿وَذُرِّیّٰتِهِمْ اور ان کی اولاد میں سے
﴿اِنَّكَ اَنْتَ الْ٘عَزِیْزُ بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے، تیری عزت کی قسم! تو ان کے گناہ بخش دیتا ہے، ان کی تکلیف دور کر دیتا ہے اور انھیں ہر بھلائی تک پہنچا دیتا ہے۔ ﴿الْحَكِیْمُ حکمت والا ہے۔ حکیم اس کو کہتے ہیں جو تمام اشیاء کو ان کے لائق حال مقام پر رکھتا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کرتے جو تیری حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بلکہ تیری حکمت، جس کی تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر خبر دی ہے اور تیرا فضل جس چیز کا تقاضا کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ تو اہل ایمان کو بخش دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ربَّنا وأدْخِلْهم جناتِ عدن التي وَعَدتَهم}: على ألسنة رسلك {ومَن صَلَحَ}؛ أي: صلح بالإيمان والعمل الصالح {من آبائهم وأزواجهم}: زوجاتهم وأزواجهنَّ وأصحابهم ورفقائهم {وذُرِّيَّاتهم إنَّك أنت العزيز}: القاهر لكل شيء؛ فبعزَّتك تغفر ذنوبهم، وتكشف عنهم المحذور، وتوصِلُهم بها إلى كلِّ خير. {الحكيم}: الذي يضع الأشياء مواضعها؛ فلا نسألك يا ربَّنا أمراً تقتضي حكمتك خلافه، بل من حكمتك التي أخبرت بها على ألسنة رسلك واقتضاها فضلُك المغفرة للمؤمنين.