کہہ دے بے شک مجھے منع کیا گیا ہے کہ میںان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، جب میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلیلیں آئیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے رب کا فرماں بردار ہو جاؤں۔
En
(اے محمدﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ان کی پرستش کروں (اور میں ان کی کیونکر پرستش کروں) جب کہ میرے پاس میرے پروردگار (کی طرف) سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ پروردگار عالم ہی کا تابع فرمان ہوں
آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے ان کی عبادت سے روک دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پکار رہے ہو اس بنا پر کہ میرے پاس میرے رب کی دلیلیں پہنچ چکی ہیں، مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے رب کا تابع فرمان ہو جاؤں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے صرف اپنے لیے عبادت کو خالص کرنے کا حکم دیا اور اس کے دلائل و براہین بیان فرمانے کے بعد نہایت صراحت کے ساتھ غیراللہ کی عبادت سے روکا، چنانچہ فرمایا: ﴿قُ٘لْ ﴾ اے نبی! کہہ دیجیے: ﴿اِنِّیْنُهِیْتُاَنْاَعْبُدَالَّذِیْنَتَدْعُوْنَمِنْدُوْنِاللّٰهِ ﴾”مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔“ مجھے تمام اصنام، بتوں اور ہر اس چیز کی عبادت سے روکا گیا ہے جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ مجھے اپنے موقف پر ذرہ بھر شک نہیں، بلکہ مجھے اس کی حقانیت پر بصیرت کے ساتھ پورا یقین ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَمَّاجَآءَؔنِیَالْبَیِّنٰتُمِنْرَّبِّیْ١ٞوَاُمِرْتُاَنْاُسْلِمَلِرَبِّالْعٰلَمِیْنَ ﴾”جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس واضح دلائل بھی آچکے ہیں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں اللہ رب العالمین کا فرمانبردار بن کر رہوں۔“ مجھے اپنے دل، زبان، اور جوارح کے ساتھ خالق کائنات کے سامنے سرافگندہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے، کہ یہ تمام اعضاء اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ یہ علی الاطلاق سب سے ”بڑا حکم“ ہے۔ اسی طرح غیراللہ کی عبادت سے ”نہی“ علی الاطلاق سب سے بڑی نہی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذَكَرَ الأمر بإخلاص العبادة لله وحده، وذَكَرَ الأدلَّة على ذلك والبينات؛ صرَّح بالنهي عن عبادة ما سواه، فقال: {قل} يا أيُّها النبيُّ، {إنِّي نهيتُ أن أعبدَ الذين تدعونَ من دونِ الله}: من الأوثان والأصنام، وكلُّ ما عُبِدَ من دون الله، ولستُ على شكٍّ من أمري، بل على يقينٍ وبصيرةٍ، ولهذا قال: {لَمَّا جاءنِيَ البيناتُ من ربِّي وأمرتُ أن أسلم لربِّ العالمين}: بقلبي ولساني وجوارحي؛ بحيث تكون منقادةً لطاعتِهِ مستسلمةً لأمره، وهذا أعظم مأمورٍ به على الإطلاق؛ كما أن النهي عن عبادة ما سواه أعظمُ منهيٍّ عنه على الإطلاق.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔