تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 65

ہُوَ الۡحَیُّ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۵﴾
وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سواسے پکارو، اس حال میں کہ اسی کے لیے دین کو خالص کرنے والے ہو، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ En
وہ زندہ ہے (جسے موت نہیں) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کر اسی کو پکارو۔ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے
En
وه زنده ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خالص اس کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو، تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿هُوَ الْحَیُّ وہی زندہ ہے جو حیات کامل کا مالک ہے۔ یہ حیات صفات ذاتیہ کو مستلزم ہے، جس کے بغیر حیات مکمل نہیں ہوتی، مثلاً: سمع، بصر، قدرت، علم، کلام اور دیگر صفاتِ کمال اور نعوتِ جلال۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اس کے سواکوئی الٰہ نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ ﴿فَادْعُوْهُ پس تم اسی کو پکارو۔ یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ ﴿مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ اسی لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ یعنی اپنی ہر عبادت، ہر دعا اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو کیونکہ اخلاص ہی وہ چیز ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ (البینۃ: 98؍5) ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر دین کو صرف اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔ ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔ یعنی تمام قولی محامد اور مدح و ثنا، مثلاً: مخلوق کا اس کا ذکر کرتے ہوئے کلام کرنا، اور فعلی محامد اور مدح و ثنا جیسے اس کی عبادت کرنا یہ سب اللہ واحد کے لیے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اوصاف و افعال اور مکمل نعمتیں عطا کرنے میں کامل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{هو الحيُّ}: الذي له الحياة الكاملة التامةُ المستلزمةُ لما تستلزمه من صفاتِهِ الذاتيَّة التي لا تتمُّ حياته إلاَّ بها؛ كالسمع والبصر والقدرة والعلم والكلام وغير ذلك من صفات كمالِهِ ونعوتِ جلالِهِ. {لا إله إلاَّ هو}؛ أي: لا معبود بحقٍّ إلاَّ وجهه الكريم، {فادْعوه}: وهذا شاملٌ لدعاء العبادة ودعاء المسألة {مخلصينَ له الدينَ}؛ أي: اقصدوا بكلِّ عبادة ودعاءٍ وعمل وجهَ الله تعالى؛ فإنَّ الإخلاص هو المأمور به؛ كما قال تعالى: {وما أمِروا إلاَّ لِيَعْبُدوا الله مخلصينَ له الدينَ حنفاء}. {الحمدُ لله ربِّ العالمينَ}؛ أي: جميع المحامد والمدائح والثناء؛ بالقول كنطق الخلق بذكره، والفعل كعبادتِهم له؛ كل ذلك لله تعالى وحده لا شريك له؛ لكماله في أوصافه وأفعاله وتمام نعمِهِ.