تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 57

لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ اَکۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۷﴾
یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ En
آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا (کام) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
En
آسمان و زمین کی پیدائش یقیناً انسان کی پیدائش سے بہت بڑا کام ہے، لیکن (یہ اور بات ہے کہ) اکثر لوگ بےعلم ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو عقلا ثابت ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، ان کی عظمت و وسعت کے ساتھ، انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑا کرشمہ ہے۔ کیونکہ انسان آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی نسبت سے بہت معمولی ہے۔ پس وہ ہستی جس نے اتنے بڑے بڑے اجرام فلکی کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا ہے اس کا لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا، زیادہ اولیٰ ہے۔ یہ عقل مند کے لیے حیات بعدالموت پر قطعی اور عقلی دلیل ہے، جو حیات بعدالموت کے بارے میں کسی شک و شبہ کو قبول نہیں کرتی، جس کے وقوع کی انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، مگر ہر شخص اس میں غوروفکر نہیں کر سکتا۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اس لیے وہ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں نہ اس کی پروا کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى بما تقرَّر في العقول أنَّ {خلق السماواتِ والأرض} على عظمهما وسعتهما أعظمُ و {أكبرُ من خلق الناس}؛ فإنَّ الناس بالنسبة إلى خلقِ السماوات والأرض من أصغر ما يكون؛ فالذي خَلَقَ الأجرام العظيمة وأتقنها قادرٌ على إعادة الناس بعد موتهم من باب أولى وأحرى، وهذا أحد الأدلَّة العقليَّة الدالَّة على البعث دلالة قاطعةً بمجرَّد نظر العاقل إليها، يستدلُّ بها استدلالاً لا يقبل الشكَّ والشُّبهة بوقوع ما أخبرت به الرسل من البعث؛ وليس كلُّ أحد يجعل فكره لذلك، ويقبل بتدبُّرِه، ولهذا قال: {ولكنَّ أكثر الناس لا يعلمونَ}: ولذلك لا يعتبرون بذلك، ولا يجعلونه منهم على بالٍ.