تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 56

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰہُمۡ ۙ اِنۡ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ اِلَّا کِبۡرٌ مَّا ہُمۡ بِبَالِغِیۡہِ ۚ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۵۶﴾
بے شک وہ لوگ جو اللہ کی آیات میں کسی دلیل کے بغیر جھگڑتے ہیں جو ان کے پاس آئی ہو، ان کے سینوں میںایک بڑائی کے سواکچھ نہیں، جس تک وہ ہرگز پہنچنے والے نہیں ہیں، سو اللہ کی پنا ہ مانگ۔ بے شک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ En
جو لوگ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں (ارادہٴ) عظمت ہے اور وہ اس کو پہنچنے والے نہیں تو خدا کی پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
En
جو لوگ باوجود اپنے پاس کسی سند کے نہ ہونے کے آیات الٰہی میں جھگڑا کرتے ہیں ان کے دلوں میں بجز نری بڑائی کے اور کچھ نہیں وه اس تک پہنچنے والے ہی نہیں، سو تو اللہ کی پناه مانگتا ره بیشک وه پورا سننے واﻻ اور سب سے زیاده دیکھنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو باطل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی آیات کا ابطال کرنے کے لیے کسی دلیل اور حجت کے بغیر جھگڑتے ہیں، ان کا یہ جدال، حق اور اس کے لانے والے کے بارے میں، ان کے سینوں میں موجود تکبر کی وجہ سے صادر ہوتا ہے۔ وہ اپنے باطل نظریات کے ذریعے سے حق پر غالب آنا چاہتے ہیں اور یہی ان کا مقصد اور یہی ان کی مراد ہےمگر ان کایہ مقصد کبھی حاصل نہ ہو گا اور ان کی یہ مراد کبھی پوری نہ ہو گی۔ یہ صریح نص اور واضح بشارت ہے کہ جو کوئی حق کے خلاف بحث و جدال کرتا ہے وہ مغلوب ہوتا ہے اور جو حق کے خلاف تکبر کا رویہ رکھتا ہے وہ نہایت ذلیل وخوار ہوتا ہے۔ ﴿فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ لہٰذا آپ (ان کی شرارتوں سے) اللہ کی پناہ مانگیے یعنی اللہ کی پناہ طلب کریں۔ یہاں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ آپ کس چیز سے پناہ طلب کریں؟ درحقیقت اس سے عموم مراد ہے، یعنی کبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں جو حق کے مقابلے میں تکبر کا موجب ہے۔ شیاطین جن و انس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں اور ہر قسم کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔ ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ وہ تمام آوازوں کو ان کے اختلاف کے باوجود سنتا ہے ﴿الْبَصِیْرُ تمام مرئیات، خواہ وہ کسی بھی زمان و مکان میں ہوں، اس کی نظر میں ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّ من جادل في آياته لِيُبْطِلَها بالباطل بغير بيِّنةٍ من أمره ولا حجَّةٍ أنَّ هذا صادرٌ من كبرٍ في صدورهم على الحقِّ وعلى مَنْ جاء به؛ يريدون الاستعلاء عليه بما معهم من الباطل؛ فهذا قصدهم ومرادُهم، ولكنَّ هذا لا يتمُّ لهم، وليسوا ببالغيه؛ فهذا نصٌّ صريح وبشارةٌ بأن كل من جادل الحقَّ أنه مغلوبٌ، وكل من تكبر عليه فهو في نهايته ذليلٌ، {فاستعذْ}؛ أي: اعتصم والجأ {بالله}: ولم يذكرْ ما يستعيذ منه إرادةً للعموم؛ أي: استعذْ بالله من الكبر الذي يوجب التكبُّر على الحقِّ، واستعذ بالله من شياطين الإنس والجنِّ، واستعذ بالله من جميع الشرور. {إنَّه هو السميع}: لجميع الأصوات على اختلافها. {البصيرُ}: بجميع المرئياتِ بأيِّ محلٍّ وموضع وزمان كانت.