تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 55

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ اسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿۵۵﴾
پس صبر کر، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہ کے لیے بخشش مانگ اور دن کے پچھلے اور پہلے پہر اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔ En
تو صبر کرو بےشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور صبح وشام اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو
En
پس اے نبی! تو صبر کر اللہ کا وعده بلاشک (وشبہ) سچا ہی ہے تو اپنے گناه کی معافی مانگتا ره اور صبح شام اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتا ره En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاصْبِرْ (اے رسول!) صبر کیجیے جس طرح آپ سے پہلے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا تھا۔ ﴿اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ یعنی اللہ کے وعدے میں کوئی شک وشبہ ہے نہ اس میں کسی جھوٹ کا شائبہ ہے جس کی بنا پر صبر کرنا آپ کے لیے مشکل ہو، یہ تو خالص حق اور ہدایت ہے جس کے لیے صبر کرنے والے صبر کرتے ہیں اور اہل بصیرت اس سے تمسّک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ ان اسباب کے زمرے میں آتا ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ امور سے رکنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ﴿وَّاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ یعنی جو آپ کے لیے فوزوفلاح اور سعادت کے حصول سے مانع ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا جو محبوب و مرغوب کے حصول کا ذریعہ ہے اور مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا جو مکروہ کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا۔ خاص طور پر ﴿بِالْ٘عَشِیِّ وَالْاِبْكَارِ صبح و شام کو جو بہترین اوقات ہیں اور یہی اوقات واجب اور مستحب اذکارو وظائف کے اوقات ہیں کیونکہ ان اوقات میں تمام امور کی تعمیل میں مدد ملتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فاصبرْ}: يا أيها الرسولُ كما صبر مَنْ قبلك من أولي العزم المرسلين، {إنَّ وعدَ الله حقٌّ}؛ أي: ليس مشكوكاً فيه أو فيه ريبٌ أو كذبٌ حتى يعسر عليك الصبر، وإنما هو الحقُّ المحض والهدى الصِّرف الذي يصبر عليه الصابرون ويجتهد في التمسُّك به أهل البصائر؛ فقوله: {إنَّ وعد الله حقٌّ}: من الأسباب التي تحثُّ على الصبر على طاعة الله وعن ما يكره الله، {واستغفرْ لذنِبكَ}: المانع لك من تحصيل فوزِك وسعادتِك، فأمره بالصبر الذي فيه يحصُلُ المحبوب، وبالاستغفار الذي فيه دفع المحذور، وبالتسبيح بحمد الله تعالى، خصوصاً {بالعشيِّ والإبكارِ}: اللذين هما أفضل الأوقات، وفيهما من الأوراد والوظائف الواجبة والمستحبَّة ما فيهما؛ لأنَّ في ذلك عوناً على جميع الأمور.