تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 53

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡہُدٰی وَ اَوۡرَثۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ ﴿ۙ۵۳﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو ہدایت دی اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا۔ En
اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت (کی کتاب) دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا
En
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ عطا فرمایا اور بنو اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے مابین جو کچھ واقع ہوا نیز فرعون اور اس کے لشکروں کا جو انجام ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا، پھر وہ حکم عام بیان کیا جو اس کو اور تمام جہنمیوں کو شامل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کو ﴿الْهُدٰؔى ہدایت سے سرفراز فرمایا، یعنی آیات اور علم سے نوازا جن سے راہنمائی حاصل کرنے والے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ﴿وَاَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا یعنی ہم نے نسل در نسل ان کو کتاب کا وارث بنایا اور اس سے مراد تورات ہے۔ یہ کتاب ہدایت پر مشتمل ہے اور ہدایت سے مراد احکام شرعیہ کا علم ہے اور اس کے اندر بھلائی کی یاد دہانی، اس کی ترغیب اور برائی سے ترہیب و تخویف ہے اور یہ چیز ہر ایک کو عطا نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف ﴿لِاُولِی الْاَلْبَابِ عقل مندوں کو نصیب ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر ما جرى لموسى وفرعون وما آل إليه أمرُ فرعون وجنودِهِ، ثم ذكر الحكم العامَّ الشامل له ولأهل النار؛ ذكر أنه أعطى موسى {الهدى}؛ أي: الآيات والعلم الذي يهتدي به المهتدون، {وأوْرَثْنا بني إسرائيل الكتابَ}؛ أي: جعلناه متوارثاً بينهم من قرن إلى آخر، وهو التوراة، وذلك الكتاب مشتملٌ على الهدى، الذي هو العلم بالأحكام الشرعيَّة وغيرها، وعلى التذكُّر للخير بالترغيب فيه وعن الشرِّ بالترهيب عنه، وليس ذلك لكلِّ أحدٍ، وإنما هو {لأولي الألباب}.