تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 52

یَوۡمَ لَا یَنۡفَعُ الظّٰلِمِیۡنَ مَعۡذِرَتُہُمۡ وَ لَہُمُ اللَّعۡنَۃُ وَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۵۲﴾
جس دن ظالموں کو ان کا عذر کرنا کوئی فائدہ نہ دے گا اور انھی کے لیے لعنت ہے اور انھی کے لیے بدترین گھر ہے۔ En
جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت اور برا گھر ہے
En
جس دن ﻇالموں کو ان کی (عذر) معذرت کچھ نفع نہ دے گی ان کے لیے لعنت ہی ہوگی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿یَوْمَ لَا یَنْفَ٘عُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ (جب وہ معذرت کریں گے تو) ظالموں کی معذرت اس دن انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔ یعنی بہت برا گھر جو وہاں داخل ہونے والوں کو بہت تکلیف دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يوم لا ينفعُ الظالمين معذِرَتُهم}: حين يعتذرون، {ولهم اللعنةُ ولهم سوءُ الدار}؛ أي: الدار السيئة التي تَسوء نازليها.