تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کے لیے دنیا، برزخ اور قیامت کے روز کے عذاب کا ذکر فرمایا اور اہل جہنم کے، جو اس کے رسولوں سے عناد رکھتے اور ان کے خلاف جنگ کرتے تھے، برے حال کا ذکر کیا، تو فرمایا: ﴿اِنَّالَنَنْصُرُرُسُلَنَاوَالَّذِیْنَاٰمَنُوْافِیالْحَیٰوةِالدُّنْیَا﴾”ہم یقینا اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں۔“ یعنی ہم دنیا میں دلیل، برہان اور نصرت کے ذریعے سے اپنے رسولوں کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَیَوْمَیَقُوْمُالْاَشْهَادُ﴾”اور اس دن بھی (مدد کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔“ اور آخرت میں ان کے حق میں فیصلے کے ذریعے سے ان کی مدد کریں گے، ان کے متبعین کو ثواب سے نوازیں گے اور ان لوگوں کو سخت عذاب دیں گے جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف جنگ کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذَكَرَ عقوبةَ آل فرعون في الدنيا والبرزخ ويوم القيامة، وذَكَرَ حالةَ أهل النار الفظيعة الذين نابذوا رسله وحاربوهم؛ قال: {إنَّا لننصرُ رُسُلَنا والذين آمنوا في الحياة الدُّنيا}؛ أي: بالحجة والبرهان والنصر، وفي الآخرة بالحكم ولأتباعهم بالثواب ولمن حاربهم بشدَّة العذاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔