تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 48

قَالَ الَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُلٌّ فِیۡہَاۤ ۙ اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ حَکَمَ بَیۡنَ الۡعِبَادِ ﴿۴۸﴾
وہ لوگ کہیں گے جو بڑے بنے تھے بے شک ہم سب اس میں ہیں، بے شک اللہ نے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا ہے۔ En
بڑے آدمی کہیں گے کہ تم (بھی اور) ہم (بھی) سب دوزخ میں (رہیں گے) خدا بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے
En
وه بڑے لوگ جواب دیں گے ہم تو سبھی اس آگ میں ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کر چکا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا بڑے آدمی کہیں گے۔ یعنی اپنی بے بسی اور سب پر حکم الٰہی کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿اِنَّا كُ٘لٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ ہم سب اس (دوزخ) میں ہیں، بے شک اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا۔ یعنی ہر ایک کے لیے عذاب کا ایک حصہ ہے جس میں اضافہ یا کمی نہیں ہو گی اور حکیم نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال الذين استكْبروا}: مبيِّنين لعجزهم ونفوذِ الحكم الإلهيِّ في الجميع: {إنَّا كلٌّ فيها إنَّ الله قد حكم بين العباد}: وجعل لكلٍّ قسطَه من العذاب؛ فلا يزاد في ذلك ولا ينقص منه ولا يغيَّر ما حكم به الحكيم.