تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 49

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَہَنَّمَ ادۡعُوۡا رَبَّکُمۡ یُخَفِّفۡ عَنَّا یَوۡمًا مِّنَ الۡعَذَابِ ﴿۴۹﴾
اور وہ لوگ جو آگ میں ہوں گے جہنم کے نگرانوں سے کہیں گے اپنے رب سے دعا کرو، وہ ہم سے ایک دن کچھ عذاب ہلکا کر دے۔ En
اور جو لوگ آگ میں (جل رہے) ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے
En
اور (تمام) جہنمی مل کر جہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وه کسی دن تو ہمارے عذاب میں کمی کردے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ جو لوگ آگ میں ہوں گے، کہیں گے۔ یعنی وہ تکبر کرنے والے اور کمزور لوگ جو آگ میں ڈالے گئے تھے ﴿لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ دوزخ کے داروغوں سے: اپنے رب سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے۔ شاید اس سے کچھ راحت حاصل ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال الذين في النار}: من المستكبرين والضعفاء {لخزنةِ جهنَّم ادْعوا ربَّكم يخفِّفْ عنَّا يوماً من العذاب}: لعله تحصُلُ بعض الراحة.