تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 47

وَ اِذۡ یَتَحَآجُّوۡنَ فِی النَّارِ فَیَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُنَّا لَکُمۡ تَبَعًا فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِیۡبًا مِّنَ النَّارِ ﴿۴۷﴾
اور جب وہ آگ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ بے شک ہم تمھارے ہی پیچھے چلنے والے تھے، توکیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹانے والے ہو؟ En
اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ (کے عذاب) کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو؟
En
اور جب کہ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ تکبر والوں سے (جن کے یہ تابع تھے) کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے تو کیا اب تم ہم سے اس آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ اہل جہنم کے جھگڑنے، ایک دوسرے پر عتاب کرنے اور جہنم کے داروغے سے مدد مانگنے اور اس کے بے فائدہ ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَاِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ اور جب وہ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے۔ یعنی پیروکار یہ حجت پیش کریں گے کہ ان کے قائدین نے ان کو گمراہ کیا اور قائدین اپنے پیروکاروں سے بیزاری اور براء ت کا اظہار کریں گے۔
﴿فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا پس ضعفاء کہیں گے۔ یعنی پیروکار ﴿لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا ان قائدین سے جنھوں نے حق کے خلاف تکبر کیا اور جنھوں نے ان کو اس موقف کی طرف بلایا جو ان کے تکبر کا باعث تھا۔ ﴿اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا ہم تمھارے تابع تھے۔ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور ہمارے سامنے شرک اور شر کو مزین کیا۔ ﴿فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ تو کیا تم دوزخ کے عذاب کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو۔ خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن تخاصم أهل النار وعتاب بعضهم بعضاً واستغاثتهم بخَزَنَةِ النار وعدم الفائدة في ذلك، فقال: {وإذْ يتحاجُّون في النار}: يحتجُّ التابعون بإغواء المتبوعين، ويتبرّأ المتبوعون من التابعين، {فيقولُ الضعفاءُ}؛ أي: الأتباع للقادة الذين استكبروا على الحق ودَعَوْهم إلى ما استكبروا لأجله: {إنَّا كنَّا لكم تبَعاً}: أنتم أغويتُمونا وأضللتُمونا، وزيَّنتم لنا الشرك والشرَّ، {فهل أنتم مُغنونَ عنَّا نصيباً من النارِ}؛ أي: ولو قليلاً.