تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ لَیۡسَ لَہٗ دَعۡوَۃٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَا فِی الۡاٰخِرَۃِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَنَّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ہُمۡ اَصۡحٰبُ النَّارِ ﴿۴۳﴾
کوئی شک نہیں کہ تم مجھے جس کی طرف بلاتے ہو اس کے لیے کسی طرح پکارنا نہ دنیا میں (درست) ہے اور نہ آخرت میں اور یہ کہ یقینا ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور یہ کہ یقینا حدسے بڑھنے والے، وہی آگ میں رہنے والے ہیں۔ En
سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم مجھے بلاتے ہو اس کو دنیا اور آخرت میں بلانے (یعنی دعا قبول کرنے) کا مقدور نہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں
En
یہ یقینی امر ہے کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وه تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے نہ آخرت میں، اور یہ (بھی یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً) اہل دوزخ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَا جَرَمَ کوئی شک نہیں۔ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَ٘یْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَلَا فِی الْاٰخِرَةِ جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الْ٘مُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰؔبُ النَّارِ اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا جَرَمَ}؛ أي: حقاً يقيناً {أنَّ ما تدعونني إليه ليس له دعوةٌ في الدنيا ولا في الآخرة}؛ أي: لا يستحقُّ [مِن] الدعوة إليه والحثِّ على اللجأ إليه في الدُّنيا ولا في الآخرة لعجزه ونقصه، وأنَّه لا يملك نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً، {وأنَّ مردَّنا إلى الله}: تعالى فسيجازي كلَّ عامل بعمله، {وأنَّ المسرفين هم أصحابُ النار}: وهم الذين أسرفوا على أنفسِهم بالتجرِّي على ربِّهم بمعاصيه والكفر به دون غيرهم.