تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 42

تَدۡعُوۡنَنِیۡ لِاَکۡفُرَ بِاللّٰہِ وَ اُشۡرِکَ بِہٖ مَا لَیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلۡمٌ ۫ وَّ اَنَا اَدۡعُوۡکُمۡ اِلَی الۡعَزِیۡزِ الۡغَفَّارِ ﴿۴۲﴾
تم مجھے بلاتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور اس کے ساتھ اسے شریک ٹھہراؤں جس کا مجھے کچھ علم نہیں اور میں تمھیں سب پرغالب، بے حد بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔ En
تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ خدا کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک مقرر کروں جس کا مجھے کچھ بھی علم نہیں۔ اور میں تم کو (خدائے) غالب (اور) بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں
En
تم مجھے یہ دعوت دے رہے ہوکہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ شرک کروں جس کا کوئی علم مجھے نہیں اور میں تمہیں غالب بخشنے والے (معبود) کی طرف دعوت دے رہا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشْرِكَ بِهٖ مَا لَ٘یْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدْعُوْؔكُمْ اِلَى الْ٘عَزِیْزِ جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الْغَفَّارِ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم فسر ذلك فقال: {تدعونني لأكفرَ بالله وأشركَ به ما ليس لي به علمٌ}: أنَّه يستحقُّ أن يُعْبَدَ من دون الله، والقول على الله بلا علم من أكبرِ الذُّنوب وأقبحها. {وأنا أدعوكُم إلى العزيز}: الذي له القوةُ كلُّها، وغيره ليس بيدِهِ من الأمر شيء: {الغفَّار}: الذي يسرف العباد على أنفسهم ويتجرؤون على مساخطه، ثم إذا تابوا وأنابوا إليه؛ كفَّر عنهم السيئاتِ والذنوبَ ودفع موجباتها من العقوبات الدنيويَّة والأخرويَّة.