تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا: ﴿فَسَتَذْكُرُوْنَ۠مَاۤاَ٘قُوْلُلَكُمْ ﴾”جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔“ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُاَمْرِیْۤاِلَىاللّٰهِ ﴾”اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔“ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّاللّٰهَبَصِیْرٌۢبِالْعِبَادِ﴾”یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔“ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما نصحهم وحذَّرهم وأنذرهم ولم يطيعوه ولا وافقوه؛ قال لهم: {فستذكرونَ ما أقول لكم}: من هذه النصيحة، وسترون مغبَّة عدم قبولها حين يحلُّ بكم العقاب وتحرمون جزيل الثواب، {وأفوِّضُ أمري إلى الله}؛ أي: ألجأ إليه وأعتصمُ وألقي أموري كلَّها لديه وأتوكَّل عليه في مصالحي ودفع الضرر الذي يصيبني منكم أو من غيركم. {إنَّ الله بصيرٌ بالعباد}: يعلمُ أحوالكم وما يستحقُّون: يعلم حالي وضَعْفي فيمنعني منكم ويكفيني شرَّكم، ويعلم أحوالَكم فلا تتصرَّفون إلاَّ بإرادتِهِ ومشيئتِهِ؛ فإنْ سلَّطكم عليَّ؛ فبحكمة منه تعالى وعن إرادتِهِ ومشيئتِهِ صَدَرَ ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔