تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 41

وَ یٰقَوۡمِ مَا لِیۡۤ اَدۡعُوۡکُمۡ اِلَی النَّجٰوۃِ وَ تَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَی النَّارِ ﴿ؕ۴۱﴾
اور اے میری قوم !مجھے کیا ہے کہ میں تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو ۔ En
اور اے قوم میرا کیا (حال) ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے (دوزخ کی) آگ کی طرف بلاتے ہو
En
اے میری قوم! یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس مرد مومن نے کہا: ﴿وَیٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْؔكُمْ اِلَى النَّجٰؔوةِ اے قوم! میرا کیا حال ہے کہ میں تو تمھیں نجات کی طرف بلاتا ہوں۔ یعنی اس بات کے ذریعے سے جو میں نے تم سے کہی ہے۔ ﴿وَتَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِ اور اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کو ترک کر کے تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويا قوم مالي أدعوكُم إلى النجاةِ}: بما قلت لكم، {وتدعونَني إلى النار}: بترك اتِّباع نبيِّ الله موسى عليه السلام.