تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اس نے واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿مِثْ٘لَدَاْبِقَوْمِنُوْحٍوَّعَادٍوَّثَمُوْدَوَالَّذِیْنَمِنْۢبَعْدِهِمْ ﴾”قوم نوح، عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح۔“ یعنی جیسا کہ کفر اور تکذیب میں ان قوموں کی عادت تھی۔ اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت یہ تھی کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل کیا۔ ﴿وَمَااللّٰهُیُرِیْدُظُلْمًالِّلْعِبَادِ ﴾”اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا“ کہ ان کو کسی گناہ اور جرم کے بغیر عذاب دے دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم بيَّنهم فقال: {مثل دأب قوم نوح وعادٍ وثمودَ والذين من بعدِهم}؛ أي: مثل عادتهم في الكفر والتكذيب، وعادة الله فيهم بالعقوبة العاجلة في الدنيا قبل الآخرة، {وما الله يريدُ ظلماً للعبادِ}: فيعذِّبُهم بغير ذنب أذنبوه ولا جرم أسْلَفوه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔