تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 30

وَ قَالَ الَّذِیۡۤ اٰمَنَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ مِّثۡلَ یَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ ﴿ۙ۳۰﴾
اور اس شخص نے کہا جو ایمان لایا تھا، اے میری قوم! بے شک میں تم پر (گزشتہ) جماعتوں کے دن کی مانند سے ڈرتا ہوں۔ En
تو جو مومن تھا وہ کہنے لگا کہ اے قوم مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ (مبادا) تم پر اور اُمتوں کی طرح کے دن کا عذاب آجائے
En
اس مومن نے کہا اے میری قوم! (کے لوگو) مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی روز (بد عذاب) نہ آئے جو اور امتوں پر آیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ وہ شخص جو ایمان لایا تھا کہنے لگا: یعنی اپنی قوم سے مایوس ہوئے بغیر مسلسل دعوت دیتے ہوئے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والوں کی عادت ہے، وہ لوگوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہتے ہیں، کوئی روکنے والا انھیں روک سکتا ہے نہ کوئی سرکش انھیں بار بار دعوت دینے سے باز رکھ سکتا ہے… ان سے کہا: ﴿یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْ٘لَ یَوْمِ الْاَحْزَابِ اے قوم! مجھے تمھاری نسبت خوف ہے کہ تم پر اور امتوں کی طرح کے (برے) دن کا عذاب نہ آجائے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اکٹھے ہو کر انبیاء کی مخالفت کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال الذي آمنَ}: مكرِّراً دعوة قومه، غير آيس من هدايتهم؛ كما هي حالةُ الدُّعاة إلى الله تعالى؛ لا يزالون يدعون إلى ربِّهم، ولا يردُّهم عن ذلك رادٌّ، ولا يثنيهم عتوُّ مَنْ دَعَوْه عن تكرار الدعوة، فقال لهم: {يا قوم إنِّي أخاف عليكم مثلَ يوم الأحزاب}؛ يعني: الأمم المكذِّبين الذين تحزَّبوا على أنبيائهم واجتمعوا على معارضتهم.