اے میری قوم ! آج تمھی کو بادشاہی حاصل ہے ، اس حال میں کہ (تم) اس سر زمین میں غالب ہو، پھر اللہ کے عذاب سے کون ہماری مدد کرے گا، اگر وہ ہم پر آگیا؟ فرعون نے کہا میں تو تمھیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود رائے رکھتا ہوں اور میں تمھیں بھلائی کا راستہ ہی بتا رہا ہوں۔
En
اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو۔ (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اس کے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے
اے میری قوم کے لوگو! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ اس زمین پر تم غالب ہو لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آ گیا تو کون ہماری مدد کرے گا؟ فرعون بوﻻ، میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راه ہی بتلا رہا ہوں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اس صاحب ایمان نے اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں ظاہری اقتدار کے دھوکے میں مبتلا ہونے سے روکا، اس نے کہا: ﴿یٰقَوْمِلَكُمُالْمُلْكُالْیَوْمَ ﴾”اے میری قوم! آج تمھاری بادشاہت ہے۔“ یعنی دنیا کے اندر ﴿ظٰهِرِیْنَفِیالْاَرْضِ ﴾”تم ہی اپنی سرزمین میں غالب ہو“ تم اپنی رعیت پر غالب ہو اور ان پر جو حکم چاہتے ہو نافذ کرتے ہو۔ فرض کیا تمھیں یہ اقتدار پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ تمھارا یہ اقتدار مکمل نہ ہو گا ﴿فَ٘مَنْیَّنْصُرُنَامِنْۢبَ٘اْسِاللّٰهِ ﴾”تو ہمیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔“﴿اِنْجَآءَنَا ﴾”اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔“
یہ اس مومن شخص کی طرف سے دعوت کا نہایت حسین اسلوب ہے کیونکہ اس نے معاملے کو اپنے اور ان کے درمیان مشترک رکھا۔ اس کا قول تھا ﴿فَ٘مَنْیَّنْصُرُنَا ﴾ اور ﴿اِنْجَآءَنَا ﴾ تاکہ ان کو باور کرا سکے کہ وہ ان کا اسی طرح خیرخواہ ہے جس طرح وہ خود اپنی ذات کا خیرخواہ ہے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
﴿قَالَفِرْعَوْنُ ﴾ اس بارے میں فرعون نے اس مرد مومن کی مخالفت اور اپنی قوم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے بچانے کے لیے ان کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿مَاۤاُرِیْكُمْاِلَّامَاۤاَرٰىوَمَاۤاَهْدِیْكُمْاِلَّاسَبِیْلَالرَّشَادِ ﴾”میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور تمھیں وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔“ وہ اپنے قول: ﴿مَاۤاُرِیْكُمْاِلَّامَاۤاَرٰى ﴾”میں تمھیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے“ میں بالکل سچا ہےمگر اسے کیا بات سوجھی ہے؟ اسے یہ بات سوجھی ہے کہ وہ اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) سمجھے اور وہ اس کی پیروی کریں تاکہ اس کی ریاست کو قائم رہے۔ وہ جانتا تھا کہ حق اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ حق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہے، اسے اس بات کا یقین تھا بایں ہمہ اس نے حق کا انکار کر دیا۔ البتہ اس نے اپنے اس قول میں جھوٹ بولا: ﴿وَمَاۤاَهْدِیْكُمْاِلَّاسَبِیْلَالرَّشَادِ ﴾”میں تو تمھیں صرف ہدایت کی راہ دکھاتا ہوں۔“ یہ حق کو بدل ڈالنا ہے۔
اگر فرعون نے اپنی قوم کو صرف اتنا ساحکم دیا ہوتا کہ وہ اس کے کفر اور گمراہی میں اس کی اتباع کریں تو یہ برائی کم تر ہوتی، مگر اس نے تو اپنی قوم کو اپنی اتباع کا حکم دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ اسے یہ بھی زعم تھا کہ اس کی اتباع حق کی اتباع ہے اور حق کی اتباع کو گمراہی خیال کرتا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم حذَّر قومه ونَصَحهم وخوَّفهم عذابَ الآخرة ونهاهم عن الاغترار بالمُلْك الظاهر، فقال: {يا قوم لكم الملكُ اليومَ}؛ أي: في الدنيا {ظاهرين في الأرض}: على رعيَّتِكم تنفِّذون فيهم ما شئتم من التدبير؛ فهَبْكم حصل لكم ذلك وتمَّ ولن يتمَّ؛ {فَمن ينصرُنا من بأس الله}؛ أي: عذابه {إن جاءنا}. وهذا من حسن دعوتِهِ؛ حيث جعلَ الأمرَ مشتركاً بينه وبينهم بقوله: {فمن ينصُرُنا}، وقوله: {إن جاءنا}؛ ليفهِمَهم أنَّه ينصحُ لهم كما ينصحُ لنفسه ويرضى لهم ما يرضى لنفسه، فَـ {قَالَ فرعونُ}: معارضاً له في ذلك ومغرِّراً لقومه أن يتَّبعوا موسى: {ما أريكم إلاَّ ما أرى وما أهديكم إلاَّ سبيل الرشادِ}: وصدق في قوله: {ما أريكم إلاَّ ما أرى}، ولكن ما الذي رأى؟! رأى أن يستخفَّ قومَه فيتابعوه ليقيمَ بهم رياسته، ولم يَرَ الحقَّ معه، بل رأى الحقَّ مع موسى وجحد به مستيقناً له، وكذب في قوله: {ما أهديكم إلاَّ سبيل الرشادِ}؛ فإنَّ هذا قلبٌ للحقِّ؛ فلو أمرهم باتِّباعه اتِّباعاً مجرداً على كفره وضلاله؛ لكان الشرُّ أهونَ، ولكنه أمرهم باتِّباعه، وزعم أنَّ في اتِّباعه اتِّباعَ الحقِّ، وفي اتِّباع الحقِّ اتباعَ الضلال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔