تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى:} بعض مفسرین کا خیال ہے کہ فرعون کو پتا نہیں چل سکا کہ موسیٰ علیہ السلام کے قتل کے فیصلے کے خلاف رائے دینے والا شخص حقیقت میں ان پر ایمان لا چکا ہے، اس لیے فرعون نے اس کی اس جرأت پر کوئی گرفت نہیں کی۔ مگر زیادہ قرین قیاس بات یہ ہے کہ وہ پہلے ہی موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزوں اور ہیبت کی وجہ سے خوف زدہ تھا، جس کی دلیل اس کا یہ کہنا ہے: «ذَرُوْنِيْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى» [المؤمن: ۲۶] ”مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں“ اب اس نے دیکھا کہ اس کے خاص لوگوں میں بھی موسیٰ علیہ السلام کی حمایت آگئی ہے تو اسے جرأت ہی نہیں ہوئی کہ اس مرد مومن کو کچھ کہے اور نہ ہی وہ اس کی کسی دلیل کا جواب دے سکا، بلکہ اس نے جواب سے گریز اختیار کیا اور اپنے سرداروں اور قوم کے لیے اپنے اخلاص کا اظہار کیا کہ میں تمھارے لیے وہی سوچتا ہوں جو اپنے لیے سوچتا ہوں اور تمھارے سامنے وہی رائے پیش کرتا ہوں جو میری بہترین سوچ کا نتیجہ ہے۔ مگر اس مُسرف و کذاب کا یہ کہنا سراسر جھوٹ تھا، کیوں کہ وہ دل سے موسیٰ علیہ السلام کو سچا جان چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جھوٹ متعدد آیات میں بیان فرمایا ہے۔ (دیکھیے نمل: ۱۲ تا ۱۴۔ بنی اسرائیل: ۱۰۲) اس کا مقصد اپنی قوم کو بے وقوف بنانا تھا اور واقعی اس نے انھیں بے قوف بنا لیا، جیسا کہ سورۂ زخرف میں ہے: «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ» [الزخرف: ۵۴] ”غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وزن) کر دیا تو انھوں نے اس کی اطاعت کر لی، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔“
اس کے علاوہ اس کا یہ کہنا کہ ” میں تمھارے لیے وہی سوچتا ہوں جو اپنے لیے سوچتا ہوں“ اس لیے بھی صاف جھوٹ تھا کہ اپنے لیے تو وہ رب الاعلیٰ سے نیچے کسی مقام پر قناعت کے لیے تیار نہ تھا، مگر قوم کے لیے اس کے پاس انھیں اپنا غلام بنا کر رکھنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ آج کے حکمرانوں کے قول و عمل کا بھی یہی حال ہے۔
➌ { وَ مَاۤ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ:} اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات میں واضح فرمایا کہ اس کا یہ کہنا بھی غلط تھا کہ ”میں تمھیں بھلائی کا راستہ ہی بتا رہا ہوں۔“ دیکھیے سورۂ ہود (۹) اور سورۂ طٰہٰ (۷۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[43] فرعون کے اس جملہ سے بھی معلوم ہو رہا ہے کہ فرعون اسے تا حال اپنا مخالف یا مومن نہیں سمجھتا تھا بلکہ اسے اپنا ناصح ہی سمجھ رہا تھا۔ اسی لئے اس نے اس مرد مومن کو یہ جواب دیا کہ مجھے تو اسی بات میں بھلائی نظر آتی ہے کہ اس شخص کو قتل کر دینا ہی بہتر ہے اور میں اپنی سمجھ اور بصیرت کے مطابق جو حالات سامنے دیکھ رہا ہوں وہی تمہیں بتا رہا ہوں اور اسی میں تمہاری بھلائی سمجھتا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
البتہ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ایک واقعہ کئی روایتوں سے مروی ہے جس کا ماحاصل یہ ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ پوچھا کہ سب سے بڑی ایذاء مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پہنچائی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا اور اپنی چادر میں بل دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں ڈال کر گھسیٹنے لگا جس سے آپصلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھٹنے لگا۔ اسی وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دوڑے دوڑے آئے اور اسے دھکا دے کر پرے پھینکا اور فرمانے لگے کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس دلیلیں لے کر آیا ہے۔[صحیح بخاری:3856]
موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون اور قوم فرعون سے یہی چاہا تھا۔ جیسے کہ آیت «وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّـهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ وَأَن لَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّـهِ ۖ إِنِّي آتِيكُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ» [44- الدخان: 21-17] تک ہے یعنی ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول اللہ کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سونپ دو۔ میں تمہاری طرف رب کا رسول امین ہوں۔ تم اللہ سے بغاوت نہ کرو۔ دیکھو میں تمہارے پاس کھلی دلیلیں اور زبردست معجزے لایا ہوں۔ تم مجھے سنگسار کر دو گے اس سے میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں، اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے چھوڑ دو،
یہی جناب رسول آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف مجھے پکارنے دو تم میری ایذاء رسانی سے باز رہو۔ اور میری قرابت داری کو خیال کرتے ہوئے مجھے دکھ نہ دو۔ صلح حدیبیہ بھی دراصل یہی چیز تھی جو کھلی فتح کہلائی۔ وہ مومن کہتا ہے کہ سنو! مسرف اور جھوٹے آدمی راہ یافتہ نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت نہیں ہوتی۔ ان کے اقوال و افعال بہت جلد ان کی خباثت کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ برخلاف اس کے یہ نبی اللہ علیہم السلام اختلاف و اضطراب سے پاک ہیں۔ صحیح سچی اور اچھی راہ پر ہیں۔ زبان کے سچے عمل کے پکے ہیں۔ اگر یہ حد سے گذر جانے والے اور جھوٹے ہوتے تو یہ راستی اور عمدگی ان میں ہرگز نہ ہوتی،
پھر قوم کو نصیحت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں بھائیو! تمہیں اللہ نے اس ملک کی سلطنت عطا فرمائی ہے۔ بڑی عزت دی ہے۔ تمہارا حکم جاری کر رکھا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر تمہیں اس کا شکر کرنا چائے اور اس کے رسولوں کو سچا ماننا چاہیئے۔
اور آیت میں ہے «وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ» [27- النمل: 14]، یعنی انہوں نے باوجود دلی یقین کے از راہ ظلم و زیادتی انکار کر دیا۔ اسی طرح اس کا یہ کہنا بھی سراسر غلط تھا کہ میں تمہیں حق کی سچائی کی اور بھلائی کی راہ دکھاتا ہوں۔ اس میں وہ لوگوں کو دھوکا دے رہا تھا اور رعیت کی خیانت کر رہا تھا۔ لیکن اس کی قوم اس کے دھوکے میں آ گئی اور فرعون کی بات مان لی۔ «إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ ۖ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ» [11-هود: 97] فرعون نے انہیں کسی بھلائی کی راہ نہ ڈالا۔ اس کا عمل ہی ٹھیک نہیں تھا اور جگہ اللہ عزوجل فرماتا ہے «وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَىٰ» [20-طه: 79] فرعون نے اپنی قوم کو بہا دیا اور انہیں صحیح راہ تک نہ پہنچنے دیا نہ پہنچایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو امام اپنی رعایا سے خیانت کر رہا ہو وہ مر کر جنت کی خوشبو بھی نہیں پاتا۔ حالانکہ وہ خوشبو پانچ سو سال کی راہ پر آتی ہے۔[صحیح بخاری:1750] «واللہ سبحانہ و تعالیٰ الموفق للصواب»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم حذَّر قومه ونَصَحهم وخوَّفهم عذابَ الآخرة ونهاهم عن الاغترار بالمُلْك الظاهر، فقال: {يا قوم لكم الملكُ اليومَ}؛ أي: في الدنيا {ظاهرين في الأرض}: على رعيَّتِكم تنفِّذون فيهم ما شئتم من التدبير؛ فهَبْكم حصل لكم ذلك وتمَّ ولن يتمَّ؛ {فَمن ينصرُنا من بأس الله}؛ أي: عذابه {إن جاءنا}. وهذا من حسن دعوتِهِ؛ حيث جعلَ الأمرَ مشتركاً بينه وبينهم بقوله: {فمن ينصُرُنا}، وقوله: {إن جاءنا}؛ ليفهِمَهم أنَّه ينصحُ لهم كما ينصحُ لنفسه ويرضى لهم ما يرضى لنفسه، فَـ {قَالَ فرعونُ}: معارضاً له في ذلك ومغرِّراً لقومه أن يتَّبعوا موسى: {ما أريكم إلاَّ ما أرى وما أهديكم إلاَّ سبيل الرشادِ}: وصدق في قوله: {ما أريكم إلاَّ ما أرى}، ولكن ما الذي رأى؟! رأى أن يستخفَّ قومَه فيتابعوه ليقيمَ بهم رياسته، ولم يَرَ الحقَّ معه، بل رأى الحقَّ مع موسى وجحد به مستيقناً له، وكذب في قوله: {ما أهديكم إلاَّ سبيل الرشادِ}؛ فإنَّ هذا قلبٌ للحقِّ؛ فلو أمرهم باتِّباعه اتِّباعاً مجرداً على كفره وضلاله؛ لكان الشرُّ أهونَ، ولكنه أمرهم باتِّباعه، وزعم أنَّ في اتِّباعه اتِّباعَ الحقِّ، وفي اتِّباع الحقِّ اتباعَ الضلال.