تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 27

وَ قَالَ مُوۡسٰۤی اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤۡمِنُ بِیَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿٪۲۷﴾
اور موسیٰ نے کہا بے شک میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی پناہ لی ہے ہر اس متکبر سے جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔ En
موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا۔ اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں
En
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں ہر اس تکبر کرنے والے شخص (کی برائی) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَالَ مُوْسٰۤى موسیٰ علیہ السلام نے کہا: جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا: ﴿اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّكُمْ میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنْ كُ٘لِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔
اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ قاعدہ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال موسى}: حين قال فرعونُ تلك المقالَة الشنيعةَ التي أوجَبَها له طغيانُه واستعان فيها بقوَّته واقتدارِهِ مستعيناً بربِّه: {إنِّي عذتُ بربِّي وربِّكم}؛ أي: امتنعتُ بربوبيَّته التي دبَّر بها جميع الأمور {من كل متكبِّرٍ لا يؤمنُ بيوم الحساب}؛ أي: يحمله تكبُّره وعدمُ إيمانه بيوم الحساب على الشرِّ والفسادِ، يدخُلُ فيه فرعونُ وغيره كما تقدَّم قريباً في القاعدة، فمنعه الله تعالى بلطفه من كلِّ متكبِّرٍ لا يؤمن بيوم الحساب، وقيَّض له من الأسباب ما اندفع به عنه شرُّ فرعونَ وملئه.