وَ قَالَ مُوۡسٰۤی اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤۡمِنُ بِیَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿٪۲۷﴾
اور موسیٰ نے کہا بے شک میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی پناہ لی ہے ہر اس متکبر سے جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔
En
موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا۔ اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں
En
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں ہر اس تکبر کرنے والے شخص (کی برائی) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 27) ➊ {وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّيْ عُذْتُ بِرَبِّيْ …:} موسیٰ علیہ السلام کو جب اس بات کا علم ہوا کہ فرعون مجھے قتل کرنا چاہتا ہے تو انھوں نے اس کے شر سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی۔ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ دشمنوں سے بچنے کے لیے اپنے رب کی پناہ طلب کرتے اور اسی پر بھروسا کرتے ہیں۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم (کے حملے) کا ڈر ہوتا تو (اللہ تعالیٰ سے) یہ دعا کرتے: [اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِيْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ] [أبو داوٗد، الوتر، باب ما یقول الرجل إذا خاف قومًا: ۱۵۳۷، و صححہ الألباني] ”اے اللہ! ہم تجھے ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔“ ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں ڈالے جانے کے وقت {”حَسْبِيَ اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ“} کہنا اور اصحاب الاخدود والے لڑکے کا {”اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْهِمْ بِمَا شِئْتَ“} کہنا بھی دشمنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی بہت عمدہ مثالیں ہیں۔ [دیکھیے بخاري: ۴۵۶۴۔ مسلم: ۳۰۰۵]
➋ { عُذْتُ بِرَبِّيْ:} مطلب یہ ہے کہ میں اس ذات عالی کی پناہ لے رہا ہوں جس نے میری پرورش کی، مجھے نبوت کے مقام پر فائز کیا، تمام آفات و مصائب سے بچایا اور اتنی نعمتیں عطا کیں جن کا شمار نہیں۔ اس لیے فرعون اور ہر متکبر و جبار ظالم سے بھی مجھے وہی بچائے گا، سو میں اسی کی پناہ لیتا ہوں۔
➌ { وَ رَبِّكُمْ:} اس میں موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو سبق دے رہے ہیں کہ ان کی طرح وہ بھی اپنے رب ہی کی پناہ مانگیں۔
➍ { مِنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ:} صرف فرعون کے شر سے پناہ مانگنے کے بجائے ہر متکبر کے شر سے پناہ مانگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا میں وسعت اور جامعیت ہونی چاہیے، جیسا کہ اس دعا میں ہر دشمن سے پناہ کی درخواست آ گئی ہے، خواہ اس کی عداوت ظاہر ہو یا مخفی اور وہ دشمن اکیلا ہو یا جماعت۔
➎ { لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ:} اس سے معلوم ہوا کہ ظلم اور قتلِ ناحق وہی کرتا ہے جو متکبر ہو (یعنی حق کا انکار کرتا ہو اور لوگوں کو حقیر جانتا ہو) اور حساب کے دن کا یقین نہ رکھتا ہو۔ ورنہ جو حق قبول کرنے والا ہو اور اسے باز پرس کا یقین ہو وہ کیسے ظلم کر سکتا ہے۔
➋ { عُذْتُ بِرَبِّيْ:} مطلب یہ ہے کہ میں اس ذات عالی کی پناہ لے رہا ہوں جس نے میری پرورش کی، مجھے نبوت کے مقام پر فائز کیا، تمام آفات و مصائب سے بچایا اور اتنی نعمتیں عطا کیں جن کا شمار نہیں۔ اس لیے فرعون اور ہر متکبر و جبار ظالم سے بھی مجھے وہی بچائے گا، سو میں اسی کی پناہ لیتا ہوں۔
➌ { وَ رَبِّكُمْ:} اس میں موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو سبق دے رہے ہیں کہ ان کی طرح وہ بھی اپنے رب ہی کی پناہ مانگیں۔
➍ { مِنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ:} صرف فرعون کے شر سے پناہ مانگنے کے بجائے ہر متکبر کے شر سے پناہ مانگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعا میں وسعت اور جامعیت ہونی چاہیے، جیسا کہ اس دعا میں ہر دشمن سے پناہ کی درخواست آ گئی ہے، خواہ اس کی عداوت ظاہر ہو یا مخفی اور وہ دشمن اکیلا ہو یا جماعت۔
➎ { لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ:} اس سے معلوم ہوا کہ ظلم اور قتلِ ناحق وہی کرتا ہے جو متکبر ہو (یعنی حق کا انکار کرتا ہو اور لوگوں کو حقیر جانتا ہو) اور حساب کے دن کا یقین نہ رکھتا ہو۔ ورنہ جو حق قبول کرنے والا ہو اور اسے باز پرس کا یقین ہو وہ کیسے ظلم کر سکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
27۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کے علم میں جب یہ بات آئی کہ فرعون مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو انہوں نے اللہ سے اس کے شر سے بچنے کیلیے دعا مانگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دشمن کا خوف ہوتا تو یہ دعا پڑھتے اللھم انا نجعلک فی نحورھم ونعوذ بک من شرور ھم مسند احمد اے اللہ ہم تجھ کو ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ اور موسیٰ نے کہا میں نے اپنے اور تمہارے پروردگار کی ہر ایسے متکبر سے جو روز [37] حساب پر ایمان نہیں رکھتا، پناہ لے لی ہے۔
[37] متکبر اور ظالم وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو آخرت کے منکر ہوں :۔
فرعون نے سیدنا موسیٰؑ کو قتل کرنے کی بات خواہ سیدنا موسیٰؑ کی موجودگی میں کی ہو یا انہیں کسی واسطہ سے فرعون کی اس دھمکی کا علم ہوا ہو۔ بہرحال جب انہوں نے یہ بات سنی تو اپنی قوم سے کہنے لگے: مجھے فرعون کی ایسی دھمکیوں کی کچھ بھی پروا نہیں۔ فرعون اکیلا تو کیا دنیا بھر کے متکبر اور جبار جمع ہو جائیں تب بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ میں اپنے آپ کو اپنے پروردگار کی پناہ میں دے چکا ہوں اور وہ مجھے ان کے شر سے بچانے کے لئے کافی ہے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ متکبر، جابر اور ظالم صرف وہ لوگ ہی ہو سکتے ہیں جو روز آخرت پر ایمان نہ رکھتے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالَ مُوْسٰۤى ﴾ ”موسیٰ علیہ السلام نے کہا:“ جب فرعون نے یہ بڑہانکی، جس کی موجب اس کی سرکشی تھی اور سرکشی پر مبنی یہ بات کہنے میں فرعون نے اپنی قوت و اقتدار سے مدد لی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا: ﴿اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّكُمْ ﴾ ”میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔“ یعنی میں اس کی ربوبیت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے ذریعے سے میرے رب نے تمام امور کی تدبیر کی ہے۔ ﴿مِّنْ كُ٘لِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ ﴾ ”ہر متکبر سے جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔“ یعنی جس کا تکبر اور یوم حساب پر عدم ایمان، اسے شر اور فساد پر آمادہ کرتا ہے۔ اس عموم میں فرعون وغیرہ بھی داخل ہے جیسا کہ قریب ہی گزشتہ سطور میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یوم حساب کے منکر ہر متکبر سے محفوظ و مامون رکھا اور آپ کو ایسے اسباب مہیا فرمائے جن کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں کا شر آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔
اس میں فرعون وغیرہ سبھی شامل ہیں جیسا کہ سابقہ ”قاعدہ“ میں مذکور ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف وکرم سے ہر اس متکبر سے آپ کی حفاظت فرمائی جو یوم الحساب پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے اسباب مہیا فرمایا جن کے ذریعے سے فرعون اور اس کے سرداروں کے شر سے محفوظ رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقال موسى}: حين قال فرعونُ تلك المقالَة الشنيعةَ التي أوجَبَها له طغيانُه واستعان فيها بقوَّته واقتدارِهِ مستعيناً بربِّه: {إنِّي عذتُ بربِّي وربِّكم}؛ أي: امتنعتُ بربوبيَّته التي دبَّر بها جميع الأمور {من كل متكبِّرٍ لا يؤمنُ بيوم الحساب}؛ أي: يحمله تكبُّره وعدمُ إيمانه بيوم الحساب على الشرِّ والفسادِ، يدخُلُ فيه فرعونُ وغيره كما تقدَّم قريباً في القاعدة، فمنعه الله تعالى بلطفه من كلِّ متكبِّرٍ لا يؤمن بيوم الحساب، وقيَّض له من الأسباب ما اندفع به عنه شرُّ فرعونَ وملئه.