اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے رب کو پکار لے، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمھارا دین بدل دے گا، یا یہ کہ زمین میں فساد پھیلا دے گا۔
En
اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے
اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو مار ڈالوں اور اسے چاہئے کہ اپنے رب کو پکارے، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی (بہت بڑا) فساد برپا نہ کردے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالَفِرْعَوْنُ ﴾ فرعون نے نہایت تکبر کے ساتھ اور اپنی قوم کے بے وقوفوں کو فریب میں مبتلا کرتے ہوئے کہا: ﴿ذَرُوْنِیْۤاَ٘قْتُلْمُوْسٰؔىوَلْیَدْعُرَبَّهٗ﴾”مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور اسے چاہیے کہ وہ اپنے رب کو بلالے۔“ فرعون سمجھتا تھا... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے… اگر اسے اپنی قوم کی دل جوئی مقصود نہ ہوتی تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرا دیتا اور فرعون یہ بھی سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اپنے رب سے دعا کرنا اسے اپنے ارادے پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جس کی بنا پر فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس نے اپنی قوم کی خیرخواہی اور زمین پر ازالۂ شر کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا تھا، چنانچہ اس نے کہا: ﴿اِنِّیْۤاَخَافُاَنْیُّبَدِّلَدِیْنَكُمْ ﴾”مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمھارے دین کو نہ بدل دے۔“ جس پر تم چل رہے ہو۔ ﴿اَوْاَنْیُّ٘ظْ٘هِرَفِیالْاَرْضِالْفَسَادَ ﴾”یا ملک میں فساد نہ پیدا کردے۔“ یہ بہت ہی تعجب خیز امر ہے کہ ایک بدترین انسان لوگوں کی خیرخواہی کے لیے ان کو مخلوق میں سے بہترین ہستی کی اتباع سے روکے۔ یہ درحقیقت باطل کو فریب کاری کے خوبصورت پردے میں چھپانا ہے۔ یہ کام صرف وہی عقل سرانجام دے سکتی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاسْتَخَفَّقَوْمَهٗفَاَطَاعُوْهُ١ؕاِنَّهُمْكَانُوْاقَوْمًافٰسِقِیْنَ ﴾ (الزخرف: 43؍54) ”فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وقوف) جانا اور انھوں نے بھی اس کی اطاعت کی، وہ درحقیقت فاسقوں کا گروہ تھا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
و {قال فرعونُ}: متكبِّراً متجبِّراً مغرِّراً لقومه السفهاء: {ذَروني أقْتُلْ موسى ولْيَدْع ربَّه}؛ أي: زعم قبَّحه الله أنه لولا مراعاةُ خواطر قومه؛ لقتله، وأنه لا يمنعُه منه دعاءُ ربِّه. ثم ذكر الحاملَ له على إرادةِ قتلِهِ، وأنه نصحٌ لقومه وإزالةٌ للشرِّ في الأرض، فقال: {إني أخافُ أن يُبَدِّلَ دينَكُم}: الذي أنتم عليه {أو أن يُظْهِرَ في الأرض الفساد}: وهذا من أعجب ما يكون! أن يكون شرُّ الخلق ينصحُ الناسَ عن اتِّباع خير الخلق. هذا من التمويه والترويج الذي لا يدخُلُ إلاَّ عقل مَنْ قال الله فيهم: {فاستخفَّ قومَه فأطاعوه إنَّهم كانوا قوماً فاسقينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔