تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 25

فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوا اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ وَ اسۡتَحۡیُوۡا نِسَآءَہُمۡ ؕ وَ مَا کَیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿۲۵﴾
پس جب وہ ہمارے ہاں سے حق لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے کہا ان لوگوں کے بیٹوں کو، جو اس کے ہمراہ ایمان لائے ہیں، قتل کرو اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں کافروں کی چال مگر سراسر ناکام۔ En
غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں
En
پس جب ان کے پاس (موسیٰ علیہ السلام) ہماری طرف سے (دین) حق کولے کر آئے توانہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جوایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زنده رکھو اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وه غلطی میں ہی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا پس جب وہ ہماری طرف سے حق لے کر ان کے پاس پہنچے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات کے ذریعے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تائید فرمائی جو مکمل اطاعت کے موجب تھے، مگر انھوں نے اطاعت نہ کی۔ انھوں نے مجرد ترک اطاعت اور روگردانی کرتے ہوئے ان کے انکار اور باطل کے ذریعے سے ان کی مخالفت ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کی جرأت کا یہ حال تھا کہ کہنے لگے: ﴿ اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَؔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَاسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَمَا كَیْدُ الْ٘كٰفِرِیْنَ جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں ہے کافروں کی چال وہ یہ سازش کرنے ہی والے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ ان کے بیٹوں کو قتل کر دیں گے تو یہ طاقتور نہیں ہو سکیں گے اور یہ ان کی غلامی میں مطیع بن کر رہیں گے، لہٰذا نہ ہوئی ان کی چال ﴿اِلَّا فِیْ ضَلٰ٘لٍ مگر ناکام کیونکہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے مقاصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر دیا اور تباہ و برباد کر دیا۔
قاعدہ: اس نکتے پر غور کیجیے جو کتاب اللہ میں کثرت سے پیش آتا ہے، جب آیات کریمہ کا سیاق کسی معین قصہ یا معین چیز میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس معین قصہ پر کوئی حکم لگانا چاہتا ہو تو وہ اس حکم کو اس قصہ کے ساتھ مختص کر کے ذکر نہیں فرماتا بلکہ اسے اس کے وصف عام پر معلق کرتا ہے تاکہ یہ حکم عام ہو اور اس میں وہ صورت بھی شامل ہو جس کے لیے کلام لایا گیا ہے اور اس معین قصے کے ساتھ حکم کے اختصاص کی بنا پر پیدا ہونے والا وہم ختم ہو جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کَیْدُھُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ) نہیں کہا بلکہ فرمایا: ﴿وَمَا كَیْدُ الْ٘كٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰ٘لٍ
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا جاءَهم بالحقِّ من عندِنا}: وأيَده الله بالمعجزات الباهرةِ الموجبة لتمام الإذعانِ؛ لم يقابلوها بذلك، ولم يكفِهِم مجرَّدُ الترك والإعراض، بل ولا إنكارها ومعارضتها بباطلهم، بل وصلتْ بهم الحالُ الشنيعة إلى أن {قالوا اقْتُلوا أبناءَ الذين آمنوا معه واسْتَحْيوا نساءَهم وما كَيْدُ الكافرينَ}: حيث كادوا هذه المكيدَة وزعموا أنَّهم إذا قَتَلوا أبناءَهم لم يَقْوَوْا، وبَقُوا في رقِّهم وتحت عبوديَّتهم. فما كيدهم {إلاَّ في ضلال}: حيث لم يتمَّ لهم ما قصدوا، بل أصابهم ضدُّ ما قصدوا، أهلكهم اللهُ، وأبادَهم عن آخرِهم.

قاعدة: وتدبَّر هذه النكتة التي يكثر مرورُها بكتاب الله تعالى إذا كان السياقُ في قصَّة معيَّنة أو على شيء معيَّن، وأراد الله أن يحكُمَ على ذلك المعيَّن بحكم لا يختصُّ به؛ ذَكَرَ الحُكْمَ وعلَّقه على الوصف العامِّ؛ ليكون أعمَّ، وتندرج فيه الصورةُ التي سيق الكلام لأجلها، وليندفع الإيهام باختصاص الحكم بذلك المعيَّن؛ فلهذا لم يقلْ: وما كيدُهم إلاَّ في ضلال، بل قال: {وَما كَيْدُ الكافرين إلاَّ في ضلال}.