تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 22

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانَتۡ تَّاۡتِیۡہِمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَکَفَرُوۡا فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ قَوِیٌّ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۲﴾
یہ اس لیے کہ وہ لوگ، ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آتے رہے تو انھوں نے انکار کیا تو اللہ نے انھیں پکڑ لیا۔ بے شک وہ بہت قوت والا، بہت سخت سزا دینے والا ہے۔ En
یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے سو خدا نے ان کو پکڑ لیا۔ بےشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے
En
یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزے لے لے کرآتے تھے تو وه انکار کر دیتے تھے، پس اللہ انہیں پکڑ لیتا تھا۔ یقیناً وه طاقتور اور سخت عذاب واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کی تفسیر آیت 21 میں تا آیت 23 میں گزر چکی ہے۔