تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 23

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَا وَ سُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۲۳﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔ En
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا
En
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا بلاشبہ ہم نے بھیجا۔ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف ﴿مُوْسٰؔى موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو ﴿بِاٰیٰتِنَا اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ جو موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَسُلْطٰ٘نٍ مُّبِیْنٍ یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کر دیتی ہے، مثلاً: سانپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لیے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {ولقد أرسلنا}: إلى جنس هؤلاء المكذِّبين {موسى}: ابن عمران {بآياتِنا}: العظيمة الدالَّة دلالة قطعيةً على حقيقة ما أُرْسِل به وبطلان ما عليه مَنْ أرسل إليهم من الشرك وما يتبعه {وسلطانٍ مبين}؛ أي: حجة بيِّنة تتسلَّط على القلوب فتذعِنُ لها كالحيَّة والعصا ونحوهما من الآيات البيِّنات التي أيَّد الله بها موسى، ومكَّنه من ما دعا إليه من الحقِّ.