تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 21

اَوَ لَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَانُوۡا ہُمۡ اَشَدَّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً وَّ اٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۲۱﴾
اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ تو قوت میں ان سے بہت زیادہ سخت تھے اور زمین میں یادگاروں کے اعتبار سے بھی، پھر اللہ نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور انھیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔ En
کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا
En
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا نتیجہ کیسا کچھ ہوا؟ وه باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے ان سے بہت زیاده تھے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں؟ یعنی انھوں نے اپنے قلوب و ابدان کے ساتھ، گزشتہ قوموں کے آثار میں غوروفکر کرنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے کے لیے چل پھر کر نہیں دیکھا؟ ﴿فَیَنْظُ٘رُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ تاکہ وہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا؟ یعنی جو ان سے پہلے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے تھے۔ وہ دیکھیں گے کہ ان کا بدترین انجام ہوا وہ تباہ و برباد کر دیے گئے اور انھیں فضیحت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ ﴿كَانُوْا وہ ان لوگوں سے زیادہ طاقت ور تھے، یعنی وہ تعداد، سازوسامان اور جسمانی طور پر بہت طاقتور تھے۔ ﴿وَّ اور بہت زیادہ تھے، ﴿اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ زمین میں (چھوڑے ہوئے) آثار کے لحاظ سے یعنی عمارات اور باغات وغیرہ کے لحاظ سے انھوں نے بہت زبردست آثار زمین میں چھوڑے۔ آثار کی قوت آثار چھوڑنے والے کی قوت اور اس کی شان و شوکت پر دلالت کرتی ہے۔
﴿فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں پکڑ لیا اپنے عذاب کے ساتھ ﴿بِذُنُوْبِهِمْ ان کے گناہوں کی وجہ سے جبکہ انھوں نے گناہوں پر اصرار کیا اور ان پر جمے رہے۔ ﴿اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ بے شک وہ صاحب قوت اور سخت عذاب دینے والا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی قوت کے سامنے ان کی قوت کسی کام نہ آئی بلکہ قوم عاد، سب سے طاقتور قوم تھی، جو کہا کرتے تھے: ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّ٘ةً (حٰمٓ السجدۃ: 41؍15) ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہوا بھیجی جس نے ان کے قویٰ مضمحل کر دیے اور ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {أوَلَم يسيروا في الأرض}؛ أي: بقلوبهم وأبدانهم سَيْرَ نظرٍ واعتبار وتفكُّر في الآثار، فينظروا كيف كان عاقبة الذين من قبلهم من المكذِّبين، فسيجدونها شرَّ العواقب، عاقبة الهلاك والدمار والخزي والفضيحة، وقد كانوا أشدَّ قوَّةً من هؤلاء في العدد والعُدد وكبر الأجسام، {و} أشدَّ {آثاراً في الأرضِ}: من البناء والغرس، وقوةُ الآثار تدلُّ على قوة المؤثِّر فيها وعلى تمنُّعه بها، {فأخَذَهم الله}: بعقوبته {بذنوبهم}: حين أصرُّوا واستمرُّوا عليها. {إنَّه قويٌّ شديد العقاب}: فلم تغنِ قوتهم عند قوةِ الله شيئاً، بل من أعظم الأمم قوة قومُ عاد الذين قالوا مَنْ أشدُّ منا قوَّةً؟! أرسل الله إليهم ريحاً أضعفت قواهم ودمَّرتهم كلَّ تدمير.