تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 80

مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ وَ مَنۡ تَوَلّٰی فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ﴿ؕ۸۰﴾
جو رسول کی فرماں برداری کرے تو بے شک اس نے اللہ کی فرماںبرداری کی اور جس نے منہ موڑا تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ En
جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا
En
اس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جو منھ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامر و نواہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی ﴿ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانے کے بارے میں معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا اور اطاعت کرنے والوں کی مدح نہ فرماتا۔
اور اس کا شمار مشترکہ حقوق میں ہوتا ہے۔ یہ حقوق تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ کا حق۔ یہ حق مخلوق میں سے کسی کے لیے نہیں ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طرف رغبت ہے اور ان کے توابع ہیں۔
(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق، جو صرف آپ کے ساتھ مختص ہے وہ ہے آپ کی توقیر اور آپ کا احترام اور آپ کی مدد کرنا۔
(۳) حقوق کی تیسری قسم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مشترکہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، ان سے محبت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حقوق کو اس آیت کریمہ میں جمع کر دیا ہے ﴿ لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ٘ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّ٘رُوْهُ١ؕ وَتُسَبِّحُوْهُ بُؔكْرَةً وَّاَصِیْلًا (الفتح: 48؍9) تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔
پس جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کے لیے وہی ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مترتب ہوتا ہے ﴿ وَمَنْ تَوَلّٰى جس نے (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے) منہ موڑا وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں کر سکتا ﴿ فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ یعنی ہم نے آپ کو اس لیے مبعوث نہیں کیا کہ آپ ان کے اعمال و احوال کی نگہبانی کریں، بلکہ ہم نے تو آپ کو مبلغ، کھول کھول کر بیان کرنے والا اور ناصح بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے آپ کے لیے آپ کا اجر واجب ہو گیا۔ خواہ وہ راہ راست اختیار کریں یا نہ کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذَكِّ٘رْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّ٘رٌؕ۰۰۲۱ لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍ (الغاشیہ: 88؍21۔22) تم ان کو نصیحت کرتے رہو اور تم صرف نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر نگہبان نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: كلُّ من أطاع رسول الله في أوامره ونواهيه؛ {فقد أطاع الله} تعالى؛ لكونِهِ لا يأمر ولا ينهى إلا بأمر الله وشرعه ووحيه وتنزيله، وفي هذا عصمةُ الرسول - صلى الله عليه وسلم -؛ لأنَّ الله أمر بطاعتِهِ مطلقاً؛ فلولا أنَّه معصومٌ في كلِّ ما يبلِّغ عن الله؛ لم يأمرْ بطاعتِهِ مطلقاً وَيمدَحْ على ذلك، وهذا من الحقوق المشتركة؛ فإنَّ الحقوق ثلاثةٌ: حقٌّ لله تعالى لا يكونُ لأحدٍ من الخَلْق، وهو عبادةُ الله والرغبةُ إليه وتوابع ذلك؛ وقسمٌ مختصٌّ بالرسول، وهو التعزيرُ والتوقيرُ والنُّصرةُ. وقسمٌ مشترك، وهو الإيمان بالله ورسولِهِ ومحبتُهما وطاعتُهما؛ كما جَمَعَ الله بين هذه الحقوق في قوله: {لِتُؤْمنوا بالله ورسوله وتعزِّروهُ وتوقِّروه وتسبِّحوه بكرةً وأصيلاً}؛ فمَنْ أطاع الرسول؛ فقد أطاع الله، وله من الثواب والخير ما رُتِّب على طاعة الله. {ومَن تولَّى}: عن طاعة الله ورسولِهِ؛ فإنه لا يضرُّ إلا نفسَه، ولا يضرُّ الله شيئاً. {فما أرسلناك عليهم حفيظاً}؛ أي: تحفظ أعمالَهم وأحوالَهم، بل أرسلناك مبلِّغاً ومبيِّناً وناصحاً، وقد أديتَ وظيفتكَ ووَجَبَ أجرُك على الله، سواءٌ اهتدَوا أم لم يهتدُوا؛ كما قال تعالى: {فَذَكِّرْ إنَّما أنت مُذَكِّرٌ لستَ عليهم بمصيطرٍ ... } الآية.