تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 32

وَ لَا تَتَمَنَّوۡا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبُوۡا ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبۡنَ ؕ وَ سۡئَلُوا اللّٰہَ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿۳۲﴾
اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور اللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ En
اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے
En
اوراس چیز کی آرزو نہ کرو جس کے باعﺚ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر بزرگی دی ہے، مردوں کا اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لئے ان میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا، اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو، یقیناً اللہ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا ہے کہ وہ اس چیز کی تمنا نہ کریں جو اس نے اپنے فضل و کرم سے دوسروں کو عطا کی ہے۔ خواہ یہ ممکن امور ہوں یا غیر ممکن۔ چنانچہ عورتیں مردوں کے خصائص کی تمنا نہ کریں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ نہ صاحب فقر اور صاحب نقص، مالداری اور کاملیت کی مجرد تمنا کریں کیونکہ ایسی مجرد تمنا حسد کے زمرے میں شمار ہوتی ہے یعنی دوسروں پر اللہ تعالیٰ کی نعمت دیکھ کر اس سے اس کے سلب ہونے اور خود کو حاصل ہونے کی تمنا کرنا۔ نیز یہ تمنا اس امر کی مقتضی ہے کہ تمنا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ کاہلی اور جھوٹی تمناؤں میں گرفتار ہے جو عمل اور محنت سے عاری ہوتی ہیں۔ البتہ صرف دو امور محمود ہیں۔
(۱) بندہ اپنی استطاعت اور مقدرت بھر اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول کے لیے کوشش اور جدوجہد کرے۔
(۲) اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل و کرم کا سوال کرے، اپنے نفس پر بھروسہ کرے نہ اپنے رب کے سوا کسی اور پر۔
بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لِلرِّؔجَالِ نَصِیْبٌ مِّؔمَّؔا اكْتَسَبُوْا مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انھوں نے کیے۔ یعنی مردوں کے نتیجہ خیز اعمال میں ان کا حصہ ہے ﴿ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّؔمَّؔا اكْتَسَبْنَ اور عورتوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو وہ کمائیں پس ان میں سے تمام لوگ وہی کچھ حاصل کرتے ہیں جو انھوں نے کمایا اور جس میں انھوں نے محنت کی ﴿ وَسْـَٔؔلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ اور اللہ سے اس کا فضل مانگتے رہو۔ یعنی اپنے دین و دنیا کے تمام مصالح میں صرف اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔
یہ بندۂ مؤمن کا کمال اور اس کی سعادت کا عنوان ہے۔ وہ شخص اس سے محروم ہے جو عمل کو چھوڑ دیتا ہے، اپنے نفس پر بھروسہ کرتا ہے اور اپنے آپ کو اپنے رب کا محتاج نہیں سمجھتا۔ یا اس میں دونوں چیزیں جمع ہیں۔ (عمل کرتا ہے نہ رب کی طرف رجوع اور اس پر اعتماد) یہ شخص خائب و خاسر اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ پس وہ صرف اسے عطا کرتا ہے جو اس کے علم میں اس کا اہل ہوتا ہے اور اسے محروم کر دیتا ہے جو اس کے علم میں غیرمستحق ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ينهى تعالى المؤمنين عن أن يتمنَّى بعضُهم ما فضَّل الله به غيره من الأمور الممكنة وغير الممكنة؛ فلا تتمنَّى النساءُ خصائص الرجال التي بها فضَّلهم على النساء، ولا صاحب الفقر والنقص حالة الغنيِّ والكامل تمنياً مجرداً؛ لأنَّ هذا هو الحسد بعينه؛ تمني نعمة الله على غيرك أن تكونَ لك ويُسْلَبَ إياها، ولأنه يقتضي السَّخَطَ على قدر الله، والإخلاد إلى الكسل، والأماني الباطلة التي لا يقترن بها عمل ولا كسب، وإنما المحمود أمران: أن يسعى العبدُ على حسب قدرته بما ينفعه من مصالحه الدينيَّة والدنيويَّة، ويسألَ الله تعالى من فضلِهِ؛ فلا يتَّكل على نفسه ولا على غير ربِّه، ولهذا قال تعالى: {للرجال نصيبٌ مما اكتسبوا}؛ أي: من أعمالهم المنتجة للمطلوب. {وللنساء نصيبٌ مما اكتسبنَ}؛ فكل منهم لا يناله غير ما كسبه وتعب فيه. {واسألوا الله من فضله}؛ أي: من جميع مصالحكم في الدين والدنيا؛ فهذا كمال العبد وعنوانُ سعادته، لا من يترك العمل أو يتَّكِلُ على نفسه غير مفتقرٍ لربِّه أو يجمع بين الأمرين؛ فإنَّ هذا مخذولٌ خاسرٌ. وقوله: {إنَّ الله كان بكل شيءٍ عليماً}: فيعطي من يعلمُهُ أهلاً لذلك، ويمنعُ من يعلَمُهُ غير مستحقٍّ.