تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 31

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ نُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ نُدۡخِلۡکُمۡ مُّدۡخَلًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾
اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمھیں منع کیاجاتا ہے تو ہم تم سے تمھاری چھوٹی برائیاں دور کر دیں گے اور تمھیں با عزت داخلے کی جگہ میں داخل کریں گے۔ En
اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے
En
اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر وہ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کریں گے تو وہ ان کے تمام گناہ اور برائیاں بخش دے گا اور انھیں اچھا ٹھکانا عطا کرے گا جہاں خیر کثیر ہو گا اور وہ ہے جنت جو ایسی نعمتوں پر مشتمل ہے جو کسی آنکھ نے کبھی دیکھی نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی بشر کے حاشیہ خیال میں ان کا گزر ہوا ہے۔ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب میں ان فرائض کا بجا لانا بھی شامل ہے جن کو ترک کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ نماز پنجگانہ، نماز جمعہ، رمضان کے روزے رکھنا وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز پنجگانہ، اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان کے مابین جو گناہ سرزد ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو مٹا دیتا ہے بشرطیکہ کبائر سے بچتے رہیں۔(صحیح مسلم، الصلوٰۃ، باب الصلوات الخمس ......الخ، حديث:552)
گناہ کبیرہ کی بہترین تعریف یہ ہے: گناہ کبیرہ وہ گناہ ہے جو دنیا میں حد کا موجب ہو یا آخرت میں اس پر سخت وعید آئی ہو یا اس کے مرتکب کے ایمان کی نفی یا اس پر لعنت کی گئی ہو یا اس گناہ پر سخت غصے کا اظہار کیا گیا ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من فضل الله وإحسانه على عباده المؤمنين، وَعَدَهم أنهم إذا اجتنبوا كبائر المنهيَّات؛ غفر لهم جميع الذنوب والسيئات، وأدخلهم مُدخلاً كريماً كثير الخير، وهو الجنة، المشتملة على ما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خطر على قلب بشر.

ويدخُلُ في اجتناب الكبائِر فعلُ الفرائض التي يكون تاركُها مرتكباً كبيرةً؛ كالصَّلوات الخمس والجمعة ورمضانَ؛ كما قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان إلى رمضان؛ مكفراتٌ لما بينهن، ما اجتُنِبَتِ الكبائر».

وأحسنُ ما حُدَّتْ به الكبائر: أنَّ الكبيرةَ ما فيه حدٌّ في الدُّنيا أو وعيدٌ في الآخرة أو نفيُ إيمان أو ترتيبُ لعنةٍ أو غضبٍ عليه.