تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور روایت میں ہے کہ اس کے بعد پھر «أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ» ۱؎ [3-آل عمران:195] اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9238]
اور یہ بھی روایت میں ہے کہ عورتوں نے یہ آرزو کی تھی کہ کاش کہ ہم بھی مرد ہوتے تو جہاد میں جاتے اور روایت میں ہے کہ ایک عورت نے خدمت نبوی میں حاضر ہو کر کہا تھا کہ دیکھئیے مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملتا ہے دو عورتوں کی شہادت مثل ایک مرد کے سمجھی جاتی ہے پھر عمل اس طرح ہے ایک نیکی آدھی نیکی رہ جاتی ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5223/3]
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مردوں نے کہا تھا کہ جب دوہرے حصے کے مالک ہم ہیں تو دوہرا اجر بھی کیوں نہ ملے؟ اور عورتوں نے درخواست کی تھی کہ جب ہم پر جہاد فرض ہی نہیں ہمیں تو شہادت کا ثواب کیوں نہیں ملتا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو روکا اور حکم دیا کہ میرا فضل طلب کرتے رہو۔
پھر فرمایا ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا خیر کے بدلے خیر اور شر کے بدلے شر اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ ہر ایک کو اس کے حق کے مطابق ورثہ دیا جاتا ہے۔
اور روایت میں ہے ایسی امید رکھنے والے اللہ کو بہت بھاتے ہیں۔ اللہ علیم ہے اسے خوب معلوم ہے کہ کون دئیے جانے کے قابل ہے اور کون فقیری کے لائق ہے اور کون آخرت کی نعمتوں کا مستحق ہے اور کون وہاں کی رسوائیوں کا سزاوار ہے اسے اس کے اسباب اور اسے اس کے وسائل وہ مہیا اور آسان کر دیتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ينهى تعالى المؤمنين عن أن يتمنَّى بعضُهم ما فضَّل الله به غيره من الأمور الممكنة وغير الممكنة؛ فلا تتمنَّى النساءُ خصائص الرجال التي بها فضَّلهم على النساء، ولا صاحب الفقر والنقص حالة الغنيِّ والكامل تمنياً مجرداً؛ لأنَّ هذا هو الحسد بعينه؛ تمني نعمة الله على غيرك أن تكونَ لك ويُسْلَبَ إياها، ولأنه يقتضي السَّخَطَ على قدر الله، والإخلاد إلى الكسل، والأماني الباطلة التي لا يقترن بها عمل ولا كسب، وإنما المحمود أمران: أن يسعى العبدُ على حسب قدرته بما ينفعه من مصالحه الدينيَّة والدنيويَّة، ويسألَ الله تعالى من فضلِهِ؛ فلا يتَّكل على نفسه ولا على غير ربِّه، ولهذا قال تعالى: {للرجال نصيبٌ مما اكتسبوا}؛ أي: من أعمالهم المنتجة للمطلوب. {وللنساء نصيبٌ مما اكتسبنَ}؛ فكل منهم لا يناله غير ما كسبه وتعب فيه. {واسألوا الله من فضله}؛ أي: من جميع مصالحكم في الدين والدنيا؛ فهذا كمال العبد وعنوانُ سعادته، لا من يترك العمل أو يتَّكِلُ على نفسه غير مفتقرٍ لربِّه أو يجمع بين الأمرين؛ فإنَّ هذا مخذولٌ خاسرٌ. وقوله: {إنَّ الله كان بكل شيءٍ عليماً}: فيعطي من يعلمُهُ أهلاً لذلك، ويمنعُ من يعلَمُهُ غير مستحقٍّ.