تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَمَنْیَّفْعَلْذٰلِكَ﴾”اور جو ایسا کرے گا“ یعنی باطل طریقے سے لوگوں کے مال کھانا اور انسان کو ناحق قتل کرنا ﴿عُدْوَانًاوَّظُلْمًا﴾”تعدی اور ظلم سے۔“ یعنی لاعلمی اور بھول کر نہیں بلکہ ظلم اور تعدی سے ﴿فَسَوْفَنُصْلِیْهِنَارًا﴾”تو ہم اسے آگ میں داخل کریں گے“ یہ بہت بڑی آگ ہو گی جیسا کہ یہ (نَارًا) کے نکرہ ہونے سے مستفاد ہو رہا ہے ﴿ وَكَانَذٰلِكَعَلَىاللّٰهِیَسِیْرًا ﴾”اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال: {ومَن يفعل ذلك}؛ أي: أكل الأموال بالباطل وقتل النفوس. {عدواناً وظلماً}؛ أي: لا جهلاً ونسياناً {فسوف نصليه ناراً}؛ أي: عظيمة كما يفيده التنكير. {وكان ذلك على الله يسيراً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔