تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 19

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَحِلُّ لَکُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرۡہًا ؕ وَ لَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ لِتَذۡہَبُوۡا بِبَعۡضِ مَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ۚ وَ عَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ فَاِنۡ کَرِہۡتُمُوۡہُنَّ فَعَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ یَجۡعَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ﴿۱۹﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھارے لیے حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جائو اور نہ انھیں اس لیے روک رکھو کہ تم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو، مگر اس صورت میں کہ وہ کھلم کھلا بے حیائی کا ارتکاب کریں اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو، پھر اگر تم انھیں نا پسند کرو تو ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔ En
مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) میں مت روک رکھنا ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا مناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے
En
ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورﺛے میں لے بیٹھو انہیں اس لئے روک نہ رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ لے لو ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی شخص مر جاتا اور اپنے پیچھے بیوی چھوڑتا تو مرنے والے کا کوئی قریبی مثلاً بھائی یا چچا زاد بھائی وغیرہ سمجھتا تھا کہ وہ اس عورت کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ چنانچہ عورت خواہ پسند کرتی یا ناپسند کرتی وہ اس عورت پر قبضہ کر لیتا تھا اور اسے کسی اور کے ساتھ نکاح نہ کرنے دیتا۔ اگر وہ چاہتا تو وہ اس کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق حق مہر پر اس سے نکاح کر لیتا۔ اور اگر وہ اسے پسند نہ کرتا تو اسے نکاح کرنے سے روک دیتا اور صرف اسی کے ساتھ اس کا نکاح کرتا جسے وہ خود منتخب کرتا اور بسااوقات وہ اس کا نکاح اس وقت تک نہ ہونے دیتا جب تک وہ مرنے والے شوہر کی میراث یا مہر میں سے اسے کچھ نہ دے دیتی۔ نیز وہ اپنی ناپسندیدہ بیوی کو بھی روک رکھتا اور دوسری جگہ نکاح نہ کرنے دیتا تاکہ وہ اپنا حق مہر اور وہ سامان ساتھ نہ لے جائے جو اس نے اسے عطا کیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام امور سے اہل ایمان کو منع کیا ہے۔ سوائے مندرجہ ذیل دو حالتوں کے۔
۱۔ جب عورت برضا و رغبت اپنے سابقہ شوہر کے کسی قریبی رشتہ دار کے ساتھ نکاح کر لے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ كَرْهًا کا مفہوم مخالف ہے۔
۲۔ جب واضح بدکاری مثلاً زنا وغیرہ کا ارتکاب کرے اور فحش گوئی کے ذریعے سے اپنے شوہر کو اذیت دے، تو اس صورت میں خاوند کا اس کو اس کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر، دوسری جگہ شادی کرنے سے روکنا جائز ہے، تاکہ وہ خاوند سے وصول کردہ مال واپس کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ (یہ گویا خلع کی صورت ہے جس میں خاوند حق مہر وغیرہ واپس لے سکتا ہے) لیکن شرط یہی ہے کہ یہ روکنا عدل و انصاف کے مطابق ہو۔
﴿ وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْ٘مَعْرُوْفِ اور ان سے اچھے طریقے سے گزران کرو یہ حکم قولی اور فعلی دونوں قسم کی معاشرت (گزران) کو شامل ہے، پس شوہر پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھے طریقے سے رہے، اسے کوئی اذیت نہ دے اس کے ساتھ بھلائی اور حسن معاملہ سے پیش آئے۔ اس میں نان و نفقہ، اور لباس وغیرہ سب شامل ہے۔ پس زمان و مکان کے احوال کے مطابق شوہر کا بیوی سے معروف طریقے سے پیش آنا فرض ہے اور اسی طرح بیوی پر بھی فرض ہے۔ یہ چیز احوال کے تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتی ہے۔
﴿ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَؔكْرَهُوْا شَیْـًٔـا وَّیَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا اگر تم انھیں ناپسند کرو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا جانو اور اللہ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے یعنی اے شوہرو تم اپنی بیویوں کو ناپسند کرنے کے باوجود اپنے پاس رکھو کیونکہ ایسا کرنے میں خیر کثیر ہے۔ مثلاً، اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی وصیت کو قبول کرنا ہے، جس کے اندر دنیا و آخرت کی سعادت ہے۔
۳۔ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ عدم محبت کے باوجود اپنے آپ کو اس کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا، اس میں مجاہدۂ نفس بھی ہے اور خلق جمیل سے آراستہ ہونا بھی۔
۴۔ بسااوقات ناپسندیدگی زائل ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ محبت لے لیتی ہے جیسا کہ فی الواقع ہوتا ہے۔
۵۔ اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں کو صالح اولاد عطا کر دیتا ہے جو دنیا و آخرت میں اپنے والدین کو نفع دیتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

كانوا في الجاهلية إذا مات أحدهم عن زوجته؛ رأى قريبُهُ كأخيه وابن عمه ونحوهما ـ أنه أحقُّ بزوجته من كل أحدٍ، وحماها عن غيره، أحبت أو كرهت؛ فإن أحبَّها؛ تزوجها على صداق يحبُّه دونها، وإن لم يرضها؛ عَضَلَها فلا يزوِّجها إلاَّ مَن يختاره هو، وربما امتنع من تزويجها حتى تبذل له شيئاً من ميراث قريبه أو من صداقها. وكان الرجل أيضاً يعضُلُ زوجته التي يكون يكرهُها ليذهبَ ببعض ما آتاها. فنهى الله المؤمنين عن جميع هذه الأحوال إلا حالتين: إذا رضيت واختارت نكاح قريب زوجها الأول كما هو مفهومُ قولِهِ: {كَرْهاً}. وإذا أتَيْنَ بفاحشة مبيِّنةٍ كالزنا والكلام الفاحش وأذيتها لزوجها؛ فإنه في هذه الحال يجوز له أن يعضُلَها عقوبةً لها على فعلها، لتفتدي منه إذا كان عضلاً بالعدل.

ثم قال: {وعاشروهنَّ بالمعروف}: وهذا يشمل المعاشرةَ القوليَّة والفعليَّة، فعلى الزوج أن يعاشر زوجته بالمعروف من الصحبة الجميلة وكفِّ الأذى وبذل الإحسان وحسن المعاملة، ويدخل في ذلك النفقة والكسوة ونحوهما، فيجب على الزوج لزوجته المعروف من مثلِهِ لمثلها في ذلك الزمان والمكان، وهذا يتفاوت بتفاوت الأحوال. {فإن كرهتموهنَّ فعسى أن تكرهوا شيئاً ويجعلَ الله فيه خيراً كثيراً}؛ أي: ينبغي لكم أيها الأزواج أن تُمْسِكوا زوجاتِكم مع الكراهة لهنَّ؛ فإنَّ في ذلك خيراً كثيراً: من ذلك امتثالُ أمر الله وقَبولُ وصيَّته التي فيها سعادة الدنيا والآخرة. ومنها: أن إجباره نفسه مع عدم محبَّته لها فيه مجاهدةُ النفس والتخلُّق بالأخلاق الجميلة، وربما أن الكراهة تزول وتخلُفُها المحبةُ كما هو الواقع في ذلك، وربما رُزِقَ منها ولداً صالحاً، نفع والديه في الدنيا والآخرة.