اور اگر تم کسی بیوی کی جگہ اور بیوی بدل کر لانے کا ارادہ کرو اور تم ان میں سے کسی کو ایک خزانہ دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو، کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح گناہ کر کے لو گے۔
En
اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو۔ اور پہلی عورت کو بہت سال مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لے لوگے؟
اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا ہی چاہو اور ان میں سے کسی کو تم نے خزانہ کا خزانہ دے رکھا ہو، تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناه ہوتے ہوئے بھی لے لو گے، تم اسے کیسے لے لو گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے میں ان تمام امور کے امکانات موجود ہیں، البتہ جب بیوی سے مفارقت ناگزیر ہو جائے اور اس کو ساتھ رکھنے کی کوئی صورت بنتی نظر نہ آئے، تب اسے روک رکھنا لازم نہیں ﴿وَاِنْاَرَدْتُّمُاسْتِبْدَالَزَوْجٍمَّكَانَزَوْجٍ ﴾ یعنی جب تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو یعنی ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہو تو اس میں کوئی گناہ اور حرج کی بات نہیں ﴿ وَّاٰتَیْتُمْاِحْدٰؔىهُنَّ ﴾ البتہ اگر تم نے جدا ہونے والی بیوی کو یا اس کو جس سے نکاح کیا ہے ﴿ قِنْطَارًا ﴾ مال کثیر عطا کر رکھا ہو ﴿ فَلَاتَاْخُذُوْامِنْهُشَیْـًٔا ﴾ تو اس سے کوئی چیز واپس نہ لو بلکہ اس میں اور زیادتی کرو اور ان کے ساتھ ٹال مٹول نہ کرو۔
یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کثرت مہر حرام نہیں۔ مگر بایں ہمہ تخفیف مہر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا افضل اور زیادہ لائق اعتنا ہے اور استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک معاملے کی خبر دی ہے جو ان سے واقع ہوا، مگر اس پر نکیر نہیں فرمائی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ فعل حرام نہیں ہے، مگر کبھی زیادہ حق مہر مقرر کرنے سے روکا بھی گیا ہے جبکہ اس میں دینی مفاسد ہوں اور اس کے مقابلے میں کوئی مصلحت نہ ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَتَاْخُذُوْنَهٗ۠بُهْتَانًاوَّاِثْمًامُّؔبِیْنًا ﴾”کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناہ ہوتے ہوئے بھی لے لو گے“ کیونکہ ایسا کرنا جائز نہیں خواہ تم بیوی کو عطا کی ہوئی چیز واپس لینے کے لیے کوئی بھی حیلہ کر لو، بہرحال یہ واضح گناہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا كله مع الإمكان في الإمساك وعدم المحذور، فإنْ كان لا بدَّ من الفراق وليس للإمساك محلٌّ؛ فليس الإمساك بلازم، بل متى {أردتم استبدال زوج مكان زوج}؛ أي: تطليق زوجة وتزوُّج أخرى؛ أي: فلا جُناح عليكم في ذلك ولا حرج، ولكن إذا {آتيتم إحداهن}؛ أي: المفارِقة أو التي تزوجها {قنطاراً}؛ أي: مالاً كثيراً. {فلا تأخذوا منه شيئاً}، بل وفِّروه لهن ولا تَمْطُلوا بهنَّ.
وفي هذه الآية دلالة على عدم تحريم كثرة المهر، مع أن الأفضل واللائق الاقتداء بالنبي - صلى الله عليه وسلم - في تخفيف المهر، ووجه الدلالة أنَّ الله أخبر عن أمر يقعُ منهم ولم ينكِرْه عليهم، فدل على عدم تحريمه.
لكن قد ينهى عن كثرة الصداق إذا تضمن مفسدة دينية وعدم مصلحةٍ تقاوم. ثم قال: {أتأخذونه بهتاناً وإثماً مبيناً}؛ فإنَّ هذا لا يحلُّ، ولو تحيَّلتم عليه بأنواع الحيل؛ فإن إثمه واضح.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔