تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ:} ابن کثیر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما، عکرمہ اور ضحاک رحمھما اللہ نے {”بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ“} سے مراد سرکشی اور نافرمانی لی ہے، مگر ابن جریر رحمہ اللہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اسے عام رکھا جائے اور یہ فحش کلامی، بد خلقی، ایذا رسانی، زنا اور اس قسم کے جملہ رذائل کو شامل ہو اور مطلب یہ ہو گا کہ اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہو تو تم اسے خلع لینے پر مجبور کر سکتے ہو، تاکہ وہ لیا ہوا مال واپس کر دے۔
➌ {وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ:} یہ عورتوں سے متعلق تیسرا حکم ہے کہ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِيْ] [ابن ماجہ، النکاح، باب حسن معاشرۃ النساء: ۱۹۷۷، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما۔ ترمذی: ۳۸۹۵۔ الصحیحۃ: ۲۸۵]”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترہے اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔“
➍ {فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى …:} یہ بھی ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنے کی بات کی تکمیل ہے، یعنی اگر کسی اخلاقی کمزوری یا بد صورت ہونے کی وجہ سے تمھیں ان سے نفرت ہو جائے اور ان کو طلاق دینا چاہو تو بھی فوراً طلاق نہ دو، بلکہ بہتر طریقے سے انھیں اپنے پاس رکھو، ہو سکتا ہے کہ ان کی صحبت سے خیر کثیر، یعنی صالح اولاد حاصل ہو جائے یا مال میں برکت ہو جائے اور تمھاری نفرت محبت میں تبدیل ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مومن اپنی مومنہ بیوی سے بغض نہ رکھے، اگر اسے اس کی کوئی ایک عادت ناپسند ہو گی تو دوسری پسند بھی ہو گی۔“ [مسلم، الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء: ۱۴۶۷، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر نفرت کے سبب تم ان سے علیحدگی اختیار کرنا چاہو تو ہو سکتا ہے کہ اس علیحدگی میں ان کے لیے خیر کثیر مضمر ہو، مثلاً ان کو بہتر خاوند مل جائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۳۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[33] یعنی انہیں گھر میں قید رکھنے کا اختیار صرف اس صورت میں ہے کہ بد کاری کا ارتکاب کریں۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت نمبر 15 میں گزر چکا ہے اور یہ حکم عام ہے۔ صرف ان سوتیلی ماؤں کے لیے نہیں جو تمہارے باپوں کے نکاح میں تھیں۔ ورنہ صرف مال ہتھیانے کے لیے عورتوں کو روکے رکھنا کسی صورت میں جائز نہیں۔
[34] اپنی بیویوں سے حسن معاشرت کے سلسلہ میں درج ذیل ارشادات نبوی ملاحظہ فرمائیے:
1۔
[ترمذی، ابواب الرضاع۔ باب حق المرأۃ علیٰ زوجھا]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ حجۃ الوداع کے دوران) فرمایا۔ ”عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی ذمہ داری پر حاصل کیا ہے اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ کے ساتھ حلال کیا ہے۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ پھر اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو لیکن اس طرح کہ انہیں چوٹ نہ آئے۔ اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں دستور کے مطابق خوراک اور پوشاک مہیا کرو۔“
[صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”کوئی مومن (اپنی) مومنہ (بیوی) سے بغض نہ رکھے۔ اگر اسے اس کی کوئی عادت ناپسند ہو گی تو ضرور کوئی دوسری پسند بھی ہو گی۔“
[مسلم، کتاب الرضاع۔ باب الوصیۃ بالنساء]
4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اسی حالت میں اٹھاؤ جبکہ اس میں کجی موجود ہے۔“
[بخاری، کتاب النکاح، باب المداراۃ مع النساء مسلم، کتاب الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء]
[34۔ 1] مثلاً تمہاری بیوی خوبصورت یا تعلیم یافتہ تو نہیں مگر وہ کفایت شعار ہے۔ اور خانہ داری سے خوب واقف ہے اور تنگی ترشی میں خاوند کو نا جائز تنگ نہیں کرتی بلکہ اس کی اطاعت گزار اور فرمانبردار ہے۔ اب اگر مرد محض کسی عورت کو اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اپنے گھر میں لانا اور اسے رخصت کرنا چاہتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ خوبصورت عورت مطالبات سے اپنے خاوند کا ناک میں دم کر دے۔ کفایت شعار بھی نہ ہو اور گھر کی صفائی اور امور خانہ داری کے لیے شوہر سے کسی ملازم یا ملازمہ کا مطالبہ کر دے اور اس پر جینا حرام کر دے لہٰذا جو کچھ تمہارے پاس ہے اسی پر اکتفا اور قناعت کرو اور اسی سے نبھانے کی اور حسن سلوک کی حتی الامکان کوشش کرو اور اپنی گھریلو زندگی کو بگاڑنے کے بجائے اس میں اصلاح پیدا کرنے کی کوشش کرو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہو جائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، ۱؎ [سنن ابوداود:2090،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو ایک روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مر جائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لیے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تاکہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہو جائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا۔
بعض بزرگوں نے فرمایا ہے «فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» ۱؎ [4-النساء:19] سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا، اس کی نافرمانی کرنا، بدزبانی کج خلقی کرنا، حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:117/8]
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تاکہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لیے ہوا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا ”معاملہ برابر ہو گیا“، ۱؎ [سنن ابوداود:2578،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہو جاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی۔
پس مسلمانوں کو بھی چاہیئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی، محبت پیار سے رہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے۔
اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمدللہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہو جائے اور اس سے اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہو گا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہو گی۔۱؎ [صحیح مسلم:1467]
امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پہلے بہت لمبے چوڑے مہر سے منع فرما دیا تھا پھر اپنے قول سے رجوع کیا، جیسے کہ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا: عورتوں کے مہر باندھنے میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے نزدیک یہ تقویٰ کی چیز ہوتی تو تم سب سے پہلے اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑ جاتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے بوجھ معلوم ہونے لگتی ہے، اور اس کے دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تو نے تو میرے کندھے پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔
بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ بیوی نے بھی اپنے بےگناہ ہونے کی، شوہر نے اپنے سچا ہونے کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اس کے مہر میں دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لیے حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر اور ناممکن بات ہو گی ۱؎ [صحیح بخاری:5311] اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا بصرہ بن اکثم رضی اللہ عنہ نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا جب اس سے ملے تو دیکھا کہ اسے زنا کا حمل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے اسے الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہو گا وہ تیرا غلام ہو گا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2131،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یاد رہے کہ سہیلی نے کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ غور طلب ہے بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے اور نہایت قبیح امر ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے۔
اور جگہ فرمایا ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» ۱؎ [6-الأنعام:151] یعنی ’ کسی برائی بےحیائی اور فحش کام کے قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو ‘۔
اور فرمان ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلاً» ۱؎ [17-الإسراء:32] یعنی ’ زنا کے قریب نہ جاؤ یقیناً وہ فحش کام اور بری راہ ہے ‘۔
یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے بغض کا بھی ہے یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے اس سے باپ بیٹے میں عداوت پڑ جاتی ہے اور دشمنی قائم ہو جاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے دوسرا نکاح کرتا ہے وہ اس کے پہلے خاوند سے بغض ہی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن قرار دے گئیں اور امت پر مثل ماں کے حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور آپ مثل باپ کے ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے کہ آپ کے حق باپ دادا کے حقوق سے بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کام اللہ کے بغض کا موجب ہے اور برا راستہ ہے اب جو ایسا کام کرے وہ دین سے مرتد ہے اسے قتل کر دیا جائے اور اس کا مال بیت المال میں بطور فئی کے داخل کر لیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک صحابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے باپ کے بعد نکاح کیا تھا کہ اسے قتل کر ڈالو اور اس کے مال پر قبضہ کر لو۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1362،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كانوا في الجاهلية إذا مات أحدهم عن زوجته؛ رأى قريبُهُ كأخيه وابن عمه ونحوهما ـ أنه أحقُّ بزوجته من كل أحدٍ، وحماها عن غيره، أحبت أو كرهت؛ فإن أحبَّها؛ تزوجها على صداق يحبُّه دونها، وإن لم يرضها؛ عَضَلَها فلا يزوِّجها إلاَّ مَن يختاره هو، وربما امتنع من تزويجها حتى تبذل له شيئاً من ميراث قريبه أو من صداقها. وكان الرجل أيضاً يعضُلُ زوجته التي يكون يكرهُها ليذهبَ ببعض ما آتاها. فنهى الله المؤمنين عن جميع هذه الأحوال إلا حالتين: إذا رضيت واختارت نكاح قريب زوجها الأول كما هو مفهومُ قولِهِ: {كَرْهاً}. وإذا أتَيْنَ بفاحشة مبيِّنةٍ كالزنا والكلام الفاحش وأذيتها لزوجها؛ فإنه في هذه الحال يجوز له أن يعضُلَها عقوبةً لها على فعلها، لتفتدي منه إذا كان عضلاً بالعدل.
ثم قال: {وعاشروهنَّ بالمعروف}: وهذا يشمل المعاشرةَ القوليَّة والفعليَّة، فعلى الزوج أن يعاشر زوجته بالمعروف من الصحبة الجميلة وكفِّ الأذى وبذل الإحسان وحسن المعاملة، ويدخل في ذلك النفقة والكسوة ونحوهما، فيجب على الزوج لزوجته المعروف من مثلِهِ لمثلها في ذلك الزمان والمكان، وهذا يتفاوت بتفاوت الأحوال. {فإن كرهتموهنَّ فعسى أن تكرهوا شيئاً ويجعلَ الله فيه خيراً كثيراً}؛ أي: ينبغي لكم أيها الأزواج أن تُمْسِكوا زوجاتِكم مع الكراهة لهنَّ؛ فإنَّ في ذلك خيراً كثيراً: من ذلك امتثالُ أمر الله وقَبولُ وصيَّته التي فيها سعادة الدنيا والآخرة. ومنها: أن إجباره نفسه مع عدم محبَّته لها فيه مجاهدةُ النفس والتخلُّق بالأخلاق الجميلة، وربما أن الكراهة تزول وتخلُفُها المحبةُ كما هو الواقع في ذلك، وربما رُزِقَ منها ولداً صالحاً، نفع والديه في الدنيا والآخرة.