بلاشبہ ہم نے تیری طرف وحی کی، جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد (دوسرے) نبیوں کی طرف وحی کی اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔
En
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی۔
یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی، اور ہم نے وحی کی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اوﻻد پر اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف۔ اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی۔
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں۔ اس میں متعدد فوائد ہیں:
(۱) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی بے شمار رسول بھیجے ہیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں۔
(۲) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کیے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور ایک دوسرے کی موافقت کرتے تھے۔
(۳) محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم انھی انبیاء و رسل کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا آپ کو دیگر انبیاء و رسل کے زمرے میں رکھ کر آپ کا اعتبار کرنا چاہیے۔ آپ کی دعوت وہی ہے جو ان رسولوں کی دعوت تھی، آپ کے اخلاق ان کے اخلاق سے متفق، آپ کی اور ان کی تعلیمات کا مصدر ایک اور آپ کے اور ان سب کے مقاصد یکساں ہیں ... پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مجہول اور کذاب لوگوں اور ظالم بادشاہوں کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔
(۴) (قرآن مجید میں) ان انبیاء و رسل کے تذکرے اور ان کی تعداد بیان کرنے میں ان کی ایسی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے اور ان کے احوال کی اس طرح تشریح ہے جس سے ان کے بارے میں مومن کے ایمان اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے طریقے اور سنت کو اپنانے کا جذبہ بڑھتا ہے اور ان کے حقوق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا مصداق ہے۔ ﴿سَلٰ٘مٌعَلٰىنُوْحٍفِیالْعٰلَمِیْنَ (الصافات:37؍79) سَلٰ٘مٌعَلٰۤىاِبْرٰهِیْمَ (الصافات: 37؍109) سَلٰ٘مٌعَلٰىمُوْسٰؔىوَهٰرُوْنَ (الصافات: 37؍120) سَلٰ٘مٌعَلٰۤىاِلْیَ٘اسِیْنَ (الصافات: 37؍130) اِنَّاكَذٰلِكَنَجْزِیالْمُحْسِنِیْنَ (الصافات: 37؍131)﴾ پس بھلائی اور احسان کرنے والے ہر شخص کو اس کے احسان کے مطابق مخلوق کے اندر ثنائے حسن نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیاء و رسل خصوصاً وہ انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی گزشتہ سطور میں ذکر کیے گئے ہیں احسان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔
جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کے اشتراک کا ذکر فرمایا، وہاں اس نے بعض انبیاء کے اختصاص کا بھی ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے جناب داود علیہ السلام کو زبور عطا کی اور یہ وہ معروف اور لکھی ہوئی کتاب ہے جو داود علیہ السلام کے فضل و شرف کی بنا پر ان کے لیے مخصوص کی گئی۔
اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام فرمایا، یعنی بغیر کسی واسطہ کے بالمشافہ کلام فرمایا۔ حتیٰ کہ یہ بات تمام دنیا میں مشہور ہوگئی اور جناب موسیٰ علیہ السلام کو ”کلیم الرحمن“ کہا جانے لگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه أوحى إلى عبده ورسوله من الشرع العظيم والأخبار الصادقة ما أوحى إلى هؤلاء الأنبياء عليهم الصلاة والسلام، وفي هذا عدة فوائد: منها: أنَّ محمداً - صلى الله عليه وسلم - ليس ببدع من الرسل، بل أرسل الله قبله من المرسلين العدد الكثير والجمَّ الغفير؛ فاستغراب رسالته لا وجه له إلاَّ الجهل أو العناد.
ومنها: أنَّه أوحى إليه كما أوحى إليهم من الأصول والعدل الذي اتَّفقوا عليه، وأنَّ بعضهم يصدِّق بعضاً، ويوافق بعضهم بعضاً.
ومنها: أنَّه من جنس هؤلاء الرسل؛ فليعتبِرْه المعتبر بإخوانه المرسلين؛ فدعوتُه دعوتُهم، وأخلاقُهم متَّفقة، ومصدَرُهم واحدٌ، وغايتُهم واحدةٌ، فلم يقرنْه بالمجهولين ولا بالكذَّابين ولا بالملوك الظَّالمين.
ومنها: أنَّ في ذِكْرِ هؤلاء الرسل وتعدادهم من التنويه بهم والثناء الصادق عليهم وشرح أحوالهم مما يزداد به المؤمنُ إيماناً بهم ومحبَّة لهم واقتداءً بهديهم واستناناً بسنَّتهم ومعرفةً بحقوقِهم، ويكون ذلك مصداقاً لقوله: {سلامٌ على نوح في العالمين} {سلامٌ على إبراهيم} {سلامٌ على موسى وهارون} {سلامٌ على إلياسينَ. إنَّا كذلك نَجْزي المحسنينَ}؛ فكل محسن له من الثَّناء الحسن بين الأنام بحسبِ إحسانِهِ، والرسلُ خصوصاً هؤلاء المسمَّون في المرتبة العلياء من الإحسان.
ولمّا ذكر اشتراكهم بوحيه؛ ذَكَرَ تخصيص بعضِهم، فذَكَرَ أنَّه آتى داود الزَّبور، وهو الكتاب المعروف المزبور، الذي خَصَّ الله به داود عليه السلام لفضلِهِ وشرفِهِ، وأنَّه كلَّم موسى تكليماً؛ أي: مشافهةً منه إليه لا بواسطة، حتى اشتهر بهذا عند العالمين، فيقال: موسى كليم الرحمن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔