لیکن ان میں سے وہ لوگ جو علم میں پختہ ہیں اور جو مومن ہیں، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف نازل کیا گیا اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا اور جو خاص کر نماز ادا کرنے والے ہیں اور جو زکوٰۃ دینے والے اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہیں، یہ لوگ ہیں جنھیں ہم عنقریب بہت بڑا اجر عطا کریں گے۔
En
مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے
لیکن ان میں سے جو کامل اور مضبوط علم والے ہیں اور ایمان والے ہیں جو اس پر ایمان ﻻتے ہیں جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں اور زکوٰة کے ادا کرنے والے ہیں اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں یہ ہیں جنہیں ہم بہت بڑے اجر عطا فرمائیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے معایب بیان کیے تو اب ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو ان میں سے قابل تعریف ہیں۔ ﴿لٰكِنِالرّٰؔسِخُوْنَفِیالْعِلْمِمِنْهُمْوَالْمُؤْمِنُوْنَ ﴾”مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور مومن ہیں “ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں علم مضبوط اور ایقان راسخ ہے اور اس کے ثمرہ میں انھیں ایمان کامل حاصل ہوتا ہے ﴿ یُؤْمِنُوْنَبِمَاۤاُنْزِلَاِلَیْكَوَمَاۤاُنْزِلَمِنْقَبْلِكَ ﴾”وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی اور ان کتابوں پر جو آپ سے پہلے اتاری گئیں۔“ یہ ایمان انھیں اعمال صالحہ کا پھل عطا کرتا ہے، مثلاً: نماز قائم کرنا اور زکٰوۃ ادا کرنا، یہ دونوں سب سے افضل اعمال ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں معبود کے لیے اخلاص اور اس کے بندوں کے لیے احسان پر مشتمل ہیں۔ وہ لوگ روز قیامت پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ بنابریں وہ اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتے ہیں اور اس کے وعدے پر امید رکھتے ہیں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَسَنُؤْتِیْهِمْاَجْرًاعَظِیْمًا﴾”ہم عنقریب انھیں اجر عظیم سے نوازیں گے“ کیونکہ انھوں نے علم و ایمان، عمل صالح، گزشتہ اور آئندہ آنے والے انبیاء و مرسلین اور تمام کتب الہیہ پر ایمان کو جمع کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذَكَرَ معايب أهل الكتاب؛ ذَكَرَ الممدوحين منهم، فقال: {لكِن الراسخون في العلم}؛ أي: الذين ثَبَتَ العلم في قلوبهم ورَسَخَ الإيقان في أفئدتهم، فأثمر لهم الإيمان التامَّ العامَّ، {بما أُنزِلَ إليك وما أُنزِلَ من قبلك}: وأثمر لهم الأعمال الصالحة من إقامة الصَّلاة وإيتاء الزَّكاة اللَّذين هما أفضل الأعمال، وقد اشتملتا على الإخلاص للمعبود والإحسان إلى العبيد، وآمنوا باليوم الآخر، فخافوا الوعيد ورَجَوا الوعد، {أولئك سنؤتيهم أجراً عظيماً}؛ لأنَّهم جمعوا بين العلم والإيمان والعمل الصالح والإيمان بالكتب والرسل السابقة واللاحقة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔