تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا}: یعنی تم زبور کو تو اﷲ تعالیٰ کی کتاب تسلیم کرتے ہو، حالانکہ وہ بھی داؤد علیہ السلام پر تورات کی طرح تختیوں کی شکل میں نازل نہیں ہوئی تھی، پھر قرآن مجید کے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ (کبیر) موجودہ زبور میں ایک سو پچاس سورتیں ہیں، جن میں دعائیں نصیحتیں اور تمثیلیں مذکور ہیں، حلت و حرمت کے احکام مذکور نہیں ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ پہلے جو وحی آپ پر شروع ہوئی وہ پاکیزہ خواب تھے۔ سوتے میں آپ جو خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح واضح ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہائی پسند آنے لگی اور آپ غار حرا میں اکیلے رہنے لگے مسلسل کئی راتیں وہاں رہ کر عبادت کرتے۔ پھر جب توشہ ختم ہو جاتا تو سیدہ خدیجہؓ کے پاس لوٹ کر آتے اور اتنا توشہ اور لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حال میں غار حرا میں تھے کہ آپ کے پاس فرشتہ آیا۔ جس نے کہا «’اقرأ» آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ”میں پڑھا لکھا نہیں۔“(آگے تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ علق)
2۔
[بخاری، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم]
دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ پر جو وحی کی جاتی ہے اس کے مضامین وہی کچھ ہیں جو سابقہ انبیاء کو وحی کیے جاتے رہے ہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص آج بھی تورات اور انجیل کا بنظر غائر مطالعہ کرے جن میں تحریف بھی ہو چکی ہے اور بہت سے الحاقی مضامین بھی ان میں شامل ہو چکے ہیں۔ تاہم بے شمار مقامات ایسے بھی آجاتے ہیں جن سے ایک عالم شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان تمام کتب سماویہ کا سرچشمہ ایک ہی ہے۔
[217] یہود زبور کو وحی الٰہی تسلیم کرتے ہیں حالانکہ وہ الواح تورات کی طرح یکبارگی نازل نہیں ہوئی تھی۔ یہاں یہود کے لیے زبور کا ذکر بالخصوص اس لیے آیا ہے کہ تم اگر یکبارگی نازل ہونے کے باوجود اسے وحی الٰہی مانتے ہو تو آخر قرآن کو وحی الٰہی ماننے سے کیا چیز مانع ہے۔ یہ در اصل یہود کے مذکورہ مطالبہ کا ہی جواب ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آیت «يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُّبِينًا وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّـهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:153-156] تک اتری .
اور یہودیوں کے برے اعمال کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دیا گیا تو انہوں نے صاف کر دیا کہ کسی انسان پر اللہ نے اپنا کوئی کلام نازل ہی نہیں فرمایا، نہ موسیٰ علیہ السلام پر، نہ عیسیٰ علیہ السلام پر، نہ کسی اور نبی پر۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گوٹ لگائے بیٹھے تھے، اسے آپ نے کھول دیا اور فرمایا کسی پر بھی نہیں؟ } پس اللہ تعالیٰ نے آیت «وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ» ۱؎ [6-الأنعام:91] الخ، نازل فرمائی .
لیکن یہ قول غور طلب ہے اس لیے کہ یہ آیت سورۃ الانعام میں ہے جو مکیہ ہے اور سورۃ نساء کی مندرجہ بالا آیت مدنیہ ہے جو ان کی تردید میں ہے، جب انہوں نے کہا تھا کہ آسمان سے کوئی کتاب آپ اتار لائیں، جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ «فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ» [4-النساء:153]
موسیٰ علیہ السلام سے انہوں نے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا۔ پھر ان کے عیوب بیان فرمائے ان کی پہلی اور موجودہ سیاہ کاریاں واضح کر دیں پھر فرمایا کہ اللہ نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اسی طرح وحی نازل فرمائی ہے جس طرح اور انبیاء کی طرف وحی کی۔ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی، ان انبیاء علیہم السلام کے قصے سورۃ قصص کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
اسی وجہ سے انبیاء اور مرسلین کی تعداد میں اختلاف ہے، اس بارے میں مشہور حدیث سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ہے جو تفسیر ابن مردویہ میں یوں ہے کہ آپ نے پوچھا: { یا رسول اللہ! انبیاء کتنے ہیں؟ فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار میں نے پوچھا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: تین سو تیرہ، بہت بڑی جماعت۔ میں نے پھر دریافت کیا: ”سب سے پہلے کون سے ہیں؟“ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا ”کیا وہ بھی رسول تھے؟“ فرمایا: ”ہاں اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر درست اور ٹھیک ٹھاک کیا“ پھر فرمایا: اے ابوذر! چار سریانی ہیں، آدم، شیت، نوح، خنوخ علیہم السلام جن کا مشہور نام ادریس ہے، انہی نے پہلے قلم سے خط لکھا، چار عربی ہیں، ہود، صالح، شعیب علیہم السلام اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، اے بوذر! بنو اسرائیل کے پہلے نبی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور آخری عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ تمام نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی تمہارے نبی ہیں۔ } ۱؎ [صحیح ابن حبان:361:ضعیف جداً]
اس پوری حدیث کو جو بہت طویل ہے۔ حافظ ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الانواع و التقاسیم میں روایت کیا ہے جس پر صحت کا نشان دیا ہے، لیکن ان کے برخلاف امام ابوالفرج بن جوزی رحمہ اللہ اسے بالکل موضوع بتلاتے ہیں، اور ابراہیم بن ہشام اس کے ایک راوی پر وضاع ہونے کا وہم کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ائمہ جرح و تعدیل میں سے بہت سے لوگوں نے ان پر اس حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ،
لیکن یہ حدیث دوسری سند سے ابوامامہ سے بھی مروی ہے، لیکن اس میں معان بن رفاعہ سلامی ضعیف ہیں اور علی بن یزید بھی ضعیف ہیں اور قاسم ابو بن عبدالرحمٰن بھی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:265/5:ضعیف جداً]
ابو یعلیٰ کی اور حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آٹھ ہزار انبیاء میرے بھائی گذر چکے ہیں ان کے بعد عیسیٰ علیہ السلام آئے اور ان کے بعد میں آیا ہوں۔} ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4092:ضعیف جداً]
اور حدیث میں ہے { میں آٹھ ہزار نبیوں کے بعد آیا ہوں جن میں سے چار ہزار نبی بنی اسرائیل میں سے تھے۔ } ۱؎ [ابونعیم فی الحلیۃ:162/3:ضعیف جداً]
یہ حدیث اس سند سے غریب تو ضرور ہے لیکن اس کے تمام راوی معروف ہیں اور سند میں کوئی کمی یا اختلاف نہیں بجز احمد بن طارق کے کہ ان کے بارے میں مجھے کوئی علالت یا جرح نہیں ملی، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ والی طویل حدیث جو انبیاء کی گنتی کے بارے میں ہے، اسے بھی سن لیجئے، { آپ فرماتے ہیں میں مسجد میں آیا اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرماتے، میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا: آپ نے نماز کا حکم دیا ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں وہ بہتر چیز ہے، چاہے کوئی زیادتی کرے چاہے کمی“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سے اعمال افضل ہیں؟“ فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا، اس کی راہ میں جہاد کرنا“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سا مسلمان اعلیٰ ہے؟ فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں“
میں نے کہا غلام کو آزاد کرنے کے عمل میں افضل کیا ہے؟ ”فرمایا: جس قدر گراں قیمت ہو اور مالک کو زیادہ پسند ہو۔“ میں نے پوچھا صدقہ کون سا افضل ہے؟ فرمایا: ”کم مال والے کا کوشش کرنا اور چپکے سے محتاج کو دے دینا۔“ میں نے کہا قران میں سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ فرمایا: ”آیت الکرسی“ پھر آپ نے فرمایا ”اے ابوذر ساتوں آسمان کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی حلقہ کسی چٹیل میدان کے مقابلے میں اور عرش کی فضیلت کرسی پر، بھی ایسی ہے جیسے وسیع میدان کی حلقے پر“
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! انبیاء علیہم السلام کتنے ہیں؟ فرمایا: ”ایک لاکھ چوبیس ہزار“ میں نے کہا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: ”تین سو تیرہ کی بہت بڑی پاک جماعت“ میں نے پوچھا: سب سے پہلے کون ہیں؟ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا کیا وہ بھی نبی رسول تھے؟ فرمایا: ”ہاں انہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور انہیں صحیح تر بنایا۔“ }
میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے کتابیں کس قدر نازل فرمائی ہیں؟ فرمایا: ایک سو چار، شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے، خنوخ علیہ السلام پر تیس صحیفے، ابراہیم علیہ السلام پر دس صحیفے اور موسیٰ علیہ السلام پر توراۃ سے پہلے دس صحیفے اور توراۃ انجیل زبور اور فرقان۔
میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: اس کا کل یہ تھا اے بادشاہ مسلط کیا ہوا اور مغروز میں نے تجھے دنیا جمع کرنے اور ملا ملا کر رکھنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس لئے کہ تو مظلوم کی پکار کو سامنے سے ہٹا دے اگر میرے پاس پہنچے تو میں اسے رد نہ کروں گا گو وہ مظلوم کافر ہی ہو اور ان میں مثالیں بھی تھیں یہ کہ عاقل کو لازم ہے کہ وہ اپنے اوقات کے کئی حصے کرے ایک وقت اپنے نفس کا حساب لے ایک وقت خدا کی صفت میں غور کرے ایک وقت اپنے کھانے پینے کی فکر کرے۔
اس کی مرکزی تعلیم جبر سے مسلط بادشاہ کو اس کے اقتدار کا مقصد سمجھانا تھا اور اسے مظلوم کی فریاد رسی کرنے کا احساس دلانا تھا۔ جس کی دعا کو اللہ تعالیٰ لازماً قبول فرماتے ہیں۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو!“ دنیا کا مال جمع کرنے سے روکنا تھا اور ان میں نصائح تھیں مثلاً یہ کہ عقلمند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا نظام الاوقات بنائے وقت کے ایک حصہ میں وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، دوسرے حصہ میں اپنے خالق کی صفات پہ غور و فکر کرے، بقیہ حصہ میں تدبیر معاش میں مشغول ہو۔
عقلمند کو تین چیزوں کے سوا کسی اور چیز میں دلچسپی نہ لینا چاہیئے، ایک تو آخرت کے زاد راہ کی فکر، دوسرے سامان زیست اور تیسرے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونا یا فکر معاش یا غیر حرام چیزوں سے سرور و لذت، عقلمند کو اپنے وقت کو غنیمت سمجھ کر سرگرم عمل رہنا چاہیئے، اپنی زبان پر قابو اور قول و فعل میں یکسانیت برقرار رکھنا چاہیئے، وہ بہت کم گو ہو گا، بات وہی کہو جو تمہیں نفع دے، }
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگلے انبیاء علیہم السلام کی کتابوں میں جو تھا اس میں سے بھی کچھ ہماری کتاب میں ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں پڑھو آیت «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:19-14]
میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، یہی تیرے اعمال کی روح ہے، میں نے کہا: یا رسول اللہ!کچھ اور بھی، آپ نے فرمایا: قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہ وہ تیرے لیے آسمانوں میں ذکر اور زمین میں نور کے حصول کا سبب ہو گا، میں نے پھر کہا: یا رسول اللہ! کچھ مزید فرمایئے،
فرمایا خبردار زیادہ ہنسی سے باز رہو زیادہ ہنسی دل کو مردہ اور چہرہ کا نور دور کر دیتی ہے، میں نے کہا: اور زیادہ، فرمایا: جہاد میں مشغول رہو، میری امت کی رہبانیت یعنی درویشی یہی ہے، میں نے کہا: اور وصیت کیجئے فرمایا: بھلی بات کہنے کے سوا زبان بند رکھو، اس سے شیطان بھاگ جائے گا اور دینی کاموں میں بڑی تائید ہو گی۔}
میں نے کہا مجھے اور زیادہ نصیحت کیجئے فرمایا: مسکینوں سے محبت رکھو اور ان کے ساتھ بیٹھو، اس سے اللہ کی رحمتیں تمہیں گراں قدر معلوم ہوں گی، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: ”قرابت داروں سے ملتے رہو، چاہے وہ تجھ سے نہ ملیں“ میں نے کہا: اور؟ فرمایا: سچ بات کہو چاہے وہ کسی کو کڑوی لگے۔ میں نے اور بھی نصیحت طلب کی، فرمایا: اللہ کے بارے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کر، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: اپنے عیبوں پر نظر رکھا کر، دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہو، پھر میرے سینے پر آپ نے اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا: اے ابوذر! تدبیر کے مانند کوئی عقلمندی نہیں اور حرام سے رک جانے سے بڑھ کر کوئی پرہیزگاری نہیں اور اچھے اخلاق سے بہتر کوئی حسب نسب نہیں۔} ۱؎ [صحیح ابن حبان:361،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مسند احمد میں بھی یہ حدیث کچھ اسی مفہوم کی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:178/5-179:ضعیف و منقطع]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کیا خارجی بھی دجال کے قائل ہیں، لوگوں نے کہا نہیں فرمایا: { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ایک ہزار بلکہ زیادہ نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور ہر ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے لیکن مجھ سے اللہ نے اس کی وہ علامت بیان فرمائی ہے جو کسی اور کو نہیں فرمائی ”سنو وہ بھینگا ہو گا اور رب ایسا ہو نہیں سکتا اس کی داہنی آنکھ کافی بھینگی ہو گی، آنکھ کا ڈھیلا اتنا اٹھا ہوا جیسے چونے کی صاف دیوار پر کسی کا کھنکار پڑا ہو اور اس کی بائیں آنکھ ایک جگمگاتے ستارے جیسی ہے، وہ تمام زبانیں بولے گا، اس کے ساتھ جنت کی صورت ہوگی سرسبز و شاداب اور پانی والی اور دوزخ کی صورت ہوگی سیاہ دھواں دھار۔ } ۱؎ [مسند احمد:79/3:ضعیف]
اس پر آپ بہت بگڑے اور فرمایا یہ کسی کافر نے پڑھا ہو گا۔ میں نے اعمش سے، اعمش نے یحییٰ سے، یحییٰ نے عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے کہ آیت «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» ۱؎ [4-النساء:164] ۱؎ [طبرانی اوسط:8603:ضعیف]
غرض اس شخص کی معنوی اور لفظی تحریف پر آپ بہت زیادہ ناراض ہوئے مگر عجب نہیں کہ یہ کوئی معتزلی ہو، اس لیے کہ معتزلہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا نہ کسی اور سے۔
کسی معتزلی نے ایک بزرگ کے سامنے اسی آیت کو اسی طرح پڑھا تو انہوں نے اسے ڈانٹ کر فرمایا پھر اس آیت میں یہ بد دیانتی کیسے کرو گے؟ جہاں فرمایا ہے آیت «وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ» ۱؎ [7-الأعراف:143] ’ یعنی موسیٰ ہمارے وعدے پر آیا اور ان سے ان کے رب نے کلام کیا ‘ مطلب یہ ہے کہ یہاں تو یہ تاویل و تحریف نہیں چلے گی۔
مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے۔ کہ کلیم اللہ سے جب اللہ نے کلام کیا وہ صوف کی چادر اور صوف کی سردول اور غیر مذبوح گدھے کی کھال کی جوتیاں پہنے ہوئے تھے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1734،قال الشيخ الألباني:ضعیف جداً]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چالیس ہزار باتیں موسیٰ علیہ السلام کیں جو سب کی سب وصیتیں تھیں، نتیجہ یہ کہ لوگوں کی باتیں موسیٰ علیہ السلام سے سنی نہیں جاتی تھیں کیونکہ کانوں میں اسی پاک کلام الٰہی کی گونج رہتی تھی۔ ۱؎ [المعجم الاوسط:3949:ضعیف] اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں۔ پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔
ایک اثر ابن مردویہ میں ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو کلام اللہ تعالیٰ نے طور والے دن موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا یہ تو میرے اندازے کے مطابق اس کی صفت جس دن پکارا تھا اس انداز کلام کی صفت سے الگ تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کا راز معلوم کرنا چاہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ابھی تو میں نے دس ہزار زبانوں کے برابر کی قوت سے کلام کیا ہے حالانکہ مجھے تمام زبانوں کی قوت حاصل ہے بلکہ ان سب سے بھی بہت زیادہ۔
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تو یہ تمام زبانوں پہ محیط تھا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پوچھا“باری تعالیٰ یہ تیرا کلام ہے؟ فرمایا نہیں اور نہ تو میرے کلام کی استقامت کر سکتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ اسے رب تیری مخلوق میں سے کسی کا کلام تیرے کلام سے مشابہ ہے؟ فرمایا نہیں سوائے سخت تر کڑاکے کے۔
یہ روایت بھی موقوف ہے اور یہ ظاہر ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ اگلی کتابوں سے روایت کیا کرتے تھے جن میں بنو اسرائیل کی حکایتیں ہر طرح صحیح اور غیر صحیح ہوتی ہیں۔ یہ رسول ہی ہیں جو اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی کے متلاشیوں کو جنتوں کی خوشخبریاں دیتے ہیں اور اس کے فرمان کے خلاف کرنے والوں، اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو عذاب اور سزا سے ڈراتے ہیں۔
جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَوْ اَنَّآ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰى» ۱؎ [20-طه:134] ’ یعنی اگر ہم انہیں اس سے پہلے ہی اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہیں بھیجے جو ہم ان کی باتیں مانتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔ ‘
اسی جیسی یہ آیت بھی ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:47]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام برائیوں کو حرام کیا ہے خواہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور ایسا بھی کوئی نہیں جسے بہ نسبت اللہ کے مدح زیادہ پسند ہو یہی وجہ ہے کہ اس نے خود اپنی مدح آپ کی ہے اور کوئی ایسا نہیں جسے اللہ سے زیادہ عذر پسند ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوش خبریاں سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4637] دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اسی وجہ سے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2760]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه أوحى إلى عبده ورسوله من الشرع العظيم والأخبار الصادقة ما أوحى إلى هؤلاء الأنبياء عليهم الصلاة والسلام، وفي هذا عدة فوائد: منها: أنَّ محمداً - صلى الله عليه وسلم - ليس ببدع من الرسل، بل أرسل الله قبله من المرسلين العدد الكثير والجمَّ الغفير؛ فاستغراب رسالته لا وجه له إلاَّ الجهل أو العناد.
ومنها: أنَّه أوحى إليه كما أوحى إليهم من الأصول والعدل الذي اتَّفقوا عليه، وأنَّ بعضهم يصدِّق بعضاً، ويوافق بعضهم بعضاً.
ومنها: أنَّه من جنس هؤلاء الرسل؛ فليعتبِرْه المعتبر بإخوانه المرسلين؛ فدعوتُه دعوتُهم، وأخلاقُهم متَّفقة، ومصدَرُهم واحدٌ، وغايتُهم واحدةٌ، فلم يقرنْه بالمجهولين ولا بالكذَّابين ولا بالملوك الظَّالمين.
ومنها: أنَّ في ذِكْرِ هؤلاء الرسل وتعدادهم من التنويه بهم والثناء الصادق عليهم وشرح أحوالهم مما يزداد به المؤمنُ إيماناً بهم ومحبَّة لهم واقتداءً بهديهم واستناناً بسنَّتهم ومعرفةً بحقوقِهم، ويكون ذلك مصداقاً لقوله: {سلامٌ على نوح في العالمين} {سلامٌ على إبراهيم} {سلامٌ على موسى وهارون} {سلامٌ على إلياسينَ. إنَّا كذلك نَجْزي المحسنينَ}؛ فكل محسن له من الثَّناء الحسن بين الأنام بحسبِ إحسانِهِ، والرسلُ خصوصاً هؤلاء المسمَّون في المرتبة العلياء من الإحسان.
ولمّا ذكر اشتراكهم بوحيه؛ ذَكَرَ تخصيص بعضِهم، فذَكَرَ أنَّه آتى داود الزَّبور، وهو الكتاب المعروف المزبور، الذي خَصَّ الله به داود عليه السلام لفضلِهِ وشرفِهِ، وأنَّه كلَّم موسى تكليماً؛ أي: مشافهةً منه إليه لا بواسطة، حتى اشتهر بهذا عند العالمين، فيقال: موسى كليم الرحمن.